وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آسان خدمت مراکز کے قیام اور دیگر شہروں میں خدمات کی توسیع کے مختلف ماڈلز کا جائزہ

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آسان خدمت مراکز کے قیام اور دیگر شہروں میں ان خدمات کی توسیع کے مختلف ماڈلز کا جائزہ لیا گیا۔وزارت اقتصادی امورکی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر احد چیمہ نے آزاد کمشیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز کو وزیراعظم کی ہدایات کے …

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آسان خدمت مراکز کے قیام اور دیگر شہروں میں ان خدمات کی توسیع کے مختلف ماڈلز کا جائزہ لیا گیا۔وزارت اقتصادی امورکی جانب سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر احد چیمہ نے آزاد کمشیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز کو وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق مراکز کے قیام کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اس مقصد کے لیے درکار فنڈز فراہم کرے گی۔ اجلاس میں ورچوئلی شریک دونوں چیف سیکرٹریز نے ٹینڈرنگ کا عمل شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر نے وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق کام تیز رفتاری سے مکمل کرنے پر زور دیا۔اجلاس میں آسان خدمت مراکز کی دیگر شہروں تک توسیع کے لیے مختلف انتظامی ماڈلز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ان میں ہائبرڈ ماڈل شامل ہے، جس کے تحت حکومت سہولیات فراہم کرے گی جبکہ نجی ادارہ مرکز کے انتظامی امور چلائے گا۔ مکمل نجی ماڈل کے تحت حکومت لائسنس جاری کرے گی اور نجی ادارہ جگہ اور دیگر انتظامات خود کرے گا جبکہ ایک ماڈل حکومتی انتظام کے تحت مراکز چلانے کا بھی ہے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ان ماڈلز کے حوالے سے فزیبلٹی سٹڈی مکمل کرکے تجاویز وزیراعظم کے سامنے پیش کی جائیں۔وفاقی وزیر احد چیمہ نے مراکز میں خدمات فراہم کرنے والے اداروں بشمول نادرا اور امیگریشن اینڈ پاسپورٹس ڈیپارٹمنٹ، کے ساتھ آمدن میں شراکت کے طریق کار کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو مراکز کے اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے کیونکہ جگہ اور یوٹیلٹی سہولیات حکومت فراہم کرتی ہے۔

نجی شعبے کے کسی بھی ماڈل میں آمدن کی مناسب تقسیم اور ایسے حفاظتی اقدامات شامل ہونے چاہییں جن سے نجی آپریٹرز شہریوں پر اضافی مالی بوجھ نہ ڈال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے، اس لیے مراکز کے اخراجات شہریوں پر منتقل نہیں ہونے چاہییں۔وفاقی وزیر نے اسلام آباد کے جی-9 مرکز میں فراہم کی جانے والی خدمات اور شہریوں کی آمد پر اطمینان کا اظہار کیا اور مرکز کی سہولیات مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں مختلف شہروں میں مرکزی مقامات پر واقع ڈاکخانوں اور دیگر سرکاری عمارتوں میں آسان خدمت کی خدمات شروع کرنے کے امکان پر بھی گفتگو ہوئی۔

وفاقی وزیر نے اس تجویز کا فزیبلٹی سٹڈی کے ذریعے جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی، سیکرٹری مواصلات علی شیر مسعود، وزارت خزانہ کے نمائندگان، آزاد کشمیر اور جی بی کے چیف سیکرٹریز اور وزیراعظم آفس کے سینئر افسران نے شرکت کی۔