وفاقی وزیر انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز کی ملاقات، انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے جاری دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے جاری دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بدھ کو وزارت انسانی حقوق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر وزارت انسانی حقوق کے سیکرٹری عبدالخالق شیخ بھی موجود تھے۔ملاقات میں …

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے پاکستان میں آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے جاری دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بدھ کو وزارت انسانی حقوق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اس موقع پر وزارت انسانی حقوق کے سیکرٹری عبدالخالق شیخ بھی موجود تھے۔ملاقات میں فریقین نے انسانی حقوق کی فراہمی اور فروغ کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور حقوق پر مبنی جامع حکمرانی کے بہترین عالمی تجربات کے تبادلے پر زور دیا۔ہائی کمشنر نے انسانی حقوق کے قوانین، پالیسیوں اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے پاکستان کی حالیہ پیش رفت کو سراہا۔ انہوں نے کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں کو قابل تحسین قرار دیا۔وفاقی وزیر نے ہائی کمشنر کو خوش آمدید کہا اور پاکستان کی جانب سے تمام طبقات کے لیے جامع انسانی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے وزارت کی اہم اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق پر عملدرآمد جاری ہے جس کے چھ سٹریٹجک شعبہ جات میں قانونی اصلاحات، انصاف تک رسائی، ادارہ جاتی مضبوطی اور عالمی معاہدوں پر عملدرآمد شامل ہیں۔وزیر انسانی حقوق نے حالیہ قانون سازی اور ساختی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔ ان میں سزائے موت سے متعلق پیش رفت شامل ہے جن میں حال ہی میں سینیٹ سے منظور شدہ وہ ترامیم بھی شامل ہیں جن کے تحت بعض جرائم کے لیے سزائے موت ختم کر کے سخت سزائوں اور قانونی تحفظات کو متعارف کروایا گیا ہے۔ دیگر اہم اقدامات میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ری سٹرینٹ ایکٹ 2025 کے ذریعے کم عمری کی شادیوں کے خلاف تحفظات کو مزید موثر بنایا گیا ہے اور نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس بل 2025 کی منظوری شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے مذہبی اقلیتوں سے متعلق حساس قوانین جیسے کہ توہین مذہب کے غلط استعمال پر ریاستی ردعمل اور اس حوالے سے قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی روشنی ڈالی۔ فریقین نے انسانی حقوق کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا اور مساوات، شمولیت اور وقار جیسے مشترکہ اصولوں کے فروغ کے لیے باہمی شراکت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔