اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے ای سپورٹس اور گیم ٹیک انڈسٹری کی ترقی کے لئے تین نکاتی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیم ٹیک سے متعلقہ کورسز اور خصوصی تربیت کے ذریعے نوجوانوں کی فنی استعداد میں اضافہ ،فنڈنگ پروگرامز متعارف کرانے اور پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے تیار کردہ گیمز کو بین الاقوامی سطح پر …
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ نے ای سپورٹس اور گیم ٹیک انڈسٹری کی ترقی کے لئے تین نکاتی حکمتِ عملی پیش کر دی
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے ای سپورٹس اور گیم ٹیک انڈسٹری کی ترقی کے لئے تین نکاتی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیم ٹیک سے متعلقہ کورسز اور خصوصی تربیت کے ذریعے نوجوانوں کی فنی استعداد میں اضافہ ،فنڈنگ پروگرامز متعارف کرانے اور پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے تیار کردہ گیمز کو بین الاقوامی سطح پر تجارتی مواقع فراہم کرنے کے لئے مکمل تعاون اور معاونت فراہم کی جائے گی۔
منگل کو وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن سے جاری بیان کے مطابق وزارتِ نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کی جس میں کامن ویلتھ سیکرٹریٹ اور برٹش ای سپورٹس فیڈریشن کے وفود نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد پاکستان کی پہلی قومی ای سپورٹس پالیسی کی تیاری اور پاکستان ای سپورٹس فیڈریشن کے قیام کے لئے تعاون فراہم کرنا تھا۔
یہ اشتراکی اقدام ای سپورٹس کو ایک باقاعدہ معاشی شعبے کے طور پر تسلیم کرنے اور نوجوانوں کی شمولیت، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی اور جدید جدت پر مبنی روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کی جبکہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خاں شریک صدر کے طور پر موجود تھے۔
اہم شرکاء میں رکنِ قومی اسمبلی اور فوکل پرسن وزیراعظم یوتھ پروگرام آمنہ بتول، سیکرٹری وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام ضرار ہاشم خان اور ڈپٹی سیکرٹری وزیراعظم یوتھ پروگرام ڈاکٹر محمد علی ملک شامل تھے۔
کامن ویلتھ سیکرٹریٹ کی نمائندگی ہیڈ آف سوشل پالیسی، یوتھ اینڈ جینڈر ڈویلپمنٹ لین رابنسن نے کی جن کے ہمراہ یوتھ آفیسر صائمہ مجید موجود تھیں۔ برٹش ای سپورٹس فیڈریشن کی نمائندگی وائس پریذیڈنٹ تھامس ڈور اور ہیڈ آف ایجوکیشن کلام نیل نے کی۔وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے پاکستان میں گیم ڈویلپمنٹ کے میدان میں ابھرتی ہوئی نوجوان صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور بتایا کہ پاکستانی نوجوان پہلے ہی SEGA اور Nintendo جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر گیمز شائع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تربیت اور صلاحیت سازی پر سرمایہ کاری کر رہی ہے لیکن سب سے بڑا چیلنج گیمز کی کمرشلائزیشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس بے پناہ نوجوان ٹیلنٹ موجود ہے لیکن مصنوعات کی کمرشلائزیشن ایک بڑی رکاوٹ ہے، ہمیں پاکستانی ڈویلپرز کو عالمی سطح تک پہنچانے کے لئے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے ای اور گیم ٹیک انڈسٹری کی ترقی کے لئے تین نکاتی حکمتِ عملی بھی پیش کی اور کہا کہ سب سے پہلے گیم ٹیک سے متعلقہ کورسز اور خصوصی تربیت کے ذریعے نوجوانوں کی فنی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا، دوسرا، ایسے فنڈنگ پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے جو نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کریں اور تیسرا، پاکستانی نوجوانوں کی جانب سے تیار کردہ گیمز کو بین الاقوامی سطح پر تجارتی مواقع فراہم کرنے کے لئے مکمل تعاون اور معاونت فراہم کی جائے گی۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ گیم ٹیک کے شعبے میں تعاون کے لئے ایک شاندار موقع ہےجو پاکستانی نوجوانوں کے لئے ایک نئی اور باصلاحیت صنعت کو کھولنے کا ذریعہ بنے گا۔اجلاس کا اختتام ایک مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا کہ پاکستان کے لئے ایک جامع، دوراندیش اور جامع قومی ای سپورٹس پالیسی تشکیل دی جائے گی جو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار پر مبنی ہو اور پاکستان کے ڈیجیٹل اور معاشی وژن سے ہم آہنگ ہو۔









