اسلام آباد ۔ 07 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ کوئی آئے اور کہے کہ گھر چلے جائیں ایسا ممکن نہیں، اپوزیشن دھاندلی ثابت کرے، اداروں پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، مذاکرات ہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان دو …
وفاقی وزیر برائے دفاع پرویز خٹک کی پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ کوئی آئے اور کہے کہ گھر چلے جائیں ایسا ممکن نہیں، اپوزیشن دھاندلی ثابت کرے، اداروں پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، مذاکرات ہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان دو نکات پر اختلاف ہے، باقی مطالبات میں ہم آہنگی ہے، ان دونوں کا ایک طریقہ کار آئین میں طے ہے، ہم نے اپوزیشن سے کہا کہ آپ آئیں دھاندلی ثابت کریں اس حوالے سے ثبوت دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دھاندلی کی بات ثابت ہوتی ہے تو پھر آ گے بات چل سکتی ہے بغیر ثبوت کے استعفیٰ ممکن نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان پوائنٹ پر ڈیڈ لاک ہے اس حوالے سے آ ئین میں طریقہ نہیں ہے، کوئی آ ئے اور کہے کہ گھر چلے جائیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی کی میں خود سربراہی کر رہا ہوں یہ ٹیم میں نے خود بنائی ہے، ان کو ذمہ داریاں دی ہوئی ہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کی اپنی ذمہ داری ہے، چیئرمین سینیٹ اپنا کام کر رہے ہیں، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اپنا کام کر رہے ہیں، میں بھی کر رہا ہوں اور اسد عمر مختلف لوگوں سے رابطے میں ہے چونکہ پرویز الہی پرانے سیاست دان ہیں اور مولانا فضل الرحمان سے تعلقات ہیں، ہم نے کہا کہ بات کرلیں سب کے ساتھ رابطے میں ہیں، صرف مولانا کے ساتھ نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیم کی صورت میں کام کر رہے ہیں، ویسے افواہیں نہ پھلائیں اور دھرنے کے ختم ہونے کا کچھ نہیں کہ سکتے، جب بات ختم ہو جائے گی تو یہ چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیانات دونوں طرف سے کبھی سخت آتے ہیں کھبی نرم آتے ہیں یہ سیاست میں ہوتا رہتا ہے اس سے کسی کو ناراض نہیں ہونا چاہیے یہ ہوتا رہتا ہے، کبھی وہ بولیں گے بلاخر مذاکرات ہی مسئلہ کا حل ہے۔








