وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار کی آئی ایم ایف مشن کے سربراہ آرنستو رمیریز ریگو سے بات چیت

اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ بجٹ مشکلات کے باوجود موجودہ حکومت نے پسماندہ علاقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے اضافی وسائل مختص کئے ہیں تاکہ ان علاقوں کو دوسرے علاقوں کے برابر لایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ آرنستو رمیریز ریگو …

اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ بجٹ مشکلات کے باوجود موجودہ حکومت نے پسماندہ علاقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے اضافی وسائل مختص کئے ہیں تاکہ ان علاقوں کو دوسرے علاقوں کے برابر لایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ آرنستو رمیریز ریگو کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ جمعہ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ تعلیم، علم پر مبنی معیشت، آبی وسائل اور ترسیلی نظام کی بہتری کے ذریعے پیداواریت کے شعبوں میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین جہانزیب خان، سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن اور وزارت منصوبہ بندی کے دیگر سینئر افسران بھی ملاقات کے دوران موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے اعلیٰ عوامی ترقی کے شعبوں کے لئے ضروریات پوری کرنے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا جسے اقتصادی نمو کو برقرار رکھنے کے لئے خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بجٹ کی تیاری کے مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی پالیسی کے تحت حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 10 فیصد وسائل آبی شعبہ کے فروغ اور آبی ذخائر میں اضافے کے لئے مختص کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نجی شعبہ کے وسائل کو ملک کی ترقی کی ناگزیر ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بروئے کار لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مزید گرانقدر بنانے کے لئے حکومتی کوششوں پر روشنی ڈالی تاکہ سماجی شعبہ کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں اور موثر سماجی تحفظ کا پروگرام دیا جا سکے۔ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ نے اقتصادی بحالی کی ابتدائی علامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے مستقبل کے امکانات بارے پر امید ہیں کیونکہ مزید مشینری درآمد کی جا رہی ہے جو بذات خود ملک میں سرمایہ کاری کے امکانات پر زیادہ اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے برآمدات میں اضافے کی مطلوبہ شرائط پر بھی روشنی ڈالی۔