وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وزارت خزانہ میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر کی ملاقات، دوطرفہ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے وزارت خزانہ میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے بارے میں آگاہ کیا جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکی اداروں کے ساتھ ہونے والے تعمیری روابط پر روشنی ڈالتے ہوئے مالیاتی تعاون، سرمایہ کاری اور پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر قابل عمل منصوبوں کے لیے فنانسنگ کے مواقع مزید بڑھانے پر زور دیا۔ملاقات میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی تجارت کے فریم ورک کے حوالے سے امریکی تجارتی نمائندہ دفتر (یو ایس ٹی آر) کے ساتھ حالیہ بات چیت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان باہمی مفاد کی بنیاد پر اس فریم ورک کو آگے بڑھانے، مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے، برآمدی مواقع میں اضافے اور دوطرفہ تجارت کے فروغ میں دلچسپی رکھتا ہے۔وزیر خزانہ نے عالمی کیپٹل مارکیٹس میں پاکستان کی حالیہ پیش رفت اور مالی معاونت کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوششوں سے بھی امریکی ناظم الامور کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، ملکی خودمختار کریڈٹ پروفائل کو مضبوط بنانے اور اقتصادی استحکام و پائیدار ترقی کے لیے طویل مدتی فنانسنگ کے ذرائع تک رسائی پر توجہ دے رہی ہے۔ملاقات کے دوران امریکی مالیاتی اداروں بالخصوص ڈی ایف سی، کی پاکستان کے سرمایہ کاری کے منظرنامے میں زیادہ موثر شرکت کے امکانات بھی زیر غور آئے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے تیار مخصوص منصوبوں کی نشاندہی اور موزوں مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل کے ذریعے امریکی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی پاکستان میں شرکت کو مزید سہل بنایا جا سکتا ہے۔فریقین نے بندرگاہوں اور لاجسٹکس، توانائی، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور پاکستان میں امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا خیرمقدم کرتی ہے۔ نٹالی بیکر نے حالیہ علاقائی تنازع اور اس کے معاشی اثرات بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں اضافے، سے نمٹنے اور اقتصادی و مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔وزیر خزانہ نے بدلتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے حالیہ یومیہ قیمتوں میں نظرثانی کے طریقہ کار کا ذکر کیا جس کا مقصد مقامی قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے حالات سے زیادہ قریب رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے، برآمدات کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکی شراکت داروں کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری ماحول میں بہتری، ساختی اصلاحات اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
امریکی ناظم الامور نے پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے امریکی حمایت کا اعادہ کیا اور مشکل معاشی حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ نٹالی بیکر نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون مزید مضبوط بنانے میں امریکہ کی مسلسل دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستانی معیشت کے اہم شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی مزید شرکت کی خواہش ظاہر کی۔







