اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایس اینڈپی گلوبل کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے ایس اینڈ پی گلوبل کے وفد کو میکرواکنامک استحکام ، مالیاتی استحکام کے اقدامات اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ معیشت کے اعشاریے مجموعی طور پر مثبت رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے اخراجات کم ہو رہے ہیں جس سے قرض کی خدمت کی لاگت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایس اینڈ پی گلوبل پاکستان کی ریٹنگ کو جلد ہی اپ گریڈ کرے گی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکا کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ برائے توانائی وسائل جیفری پیاٹ سے بھی ملاقات کی ۔ وزیر خزانہ نے ان کو توانائی کے شعبے کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور حکومت کی طرف سے متعارف کرائی جانے والی اصلاحات کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے امریکی حکومت سے قابل تجدید توانائی پر منتقلی کے حوالے سے پاکستان سے تعاون کی پیشکش پر اظہار تشکر کیا۔
مزید برآں وزیر خزانہ نے ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں عالمی بینک کے زیر اہتمام منعقدہ ’’ گروئنگ سٹرانگر: ارجنٹ کال ٹو امپورو چائلڈ نیوٹریشن ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ میں بھی شرکت کی۔اس موقع پر وزیر خزانہ نے پاکستان اور بالخصوص دیہی علاقوں میں بچوں کو درپیش غذائی قلت کی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بچوں میں غذائی قلت کے باعث نشو ونما کے مسائل کے خاتمہ کےلئے کثیر شعبہ جاتی اور حکومت کے نقطہ نظر پر زور دیا۔ انہوں نے ٹیکس کے شعبے میں اصلاحات اور توانائی سیکٹر کی سبسڈیز میں کمی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مزید برآں انہوں نے حکومتی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے انتظام کار میں بہتری ، موسمیاتی تبدیلی ، آبادی میں اضافہ پر قابو پانے اور بچوں کی نشو ونما کے حوالہ سے سرمایہ کاری کےلئے مزید مالی گنجائش پیدا کرنے پر عالمی برادری کا شکریہ اداکیا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کی بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما کے مسائل پر سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان سے کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک کے تحت سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) کی سیکرٹری جنرل دیمہ ال یحییٰ سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان میں آئی سی ٹی کے شعبہ میں موجود بے پناہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت گورننس کی بہتری ، شہریوں کے معیار زندگی میں اضافہ اور اقتصادی فلاح وبہبود کےلئے ڈیجیٹل ایکو سسٹم پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ، ڈیجیٹل اکانومی ، ڈیجیٹل ایف ڈی آئی، ڈیجیٹل سکلز اور ڈیجیٹل گورننس میں قریبی تعاون پر بھی زور دیا۔ دبئی اسلامک بینک کے سی ای او ڈاکٹر عدنان چلوان سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ و محصولات نے فنانسنگ کے فرق کو پورا کرنے میں بینک کی بروقت معاونت پر شکریہ ادا کیا اور اس بات کو سراہا کہ دبئی اسلامک بینک پاکستان میں اپنے آپریشنز کو وسعت دے رہا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹرعدنان چلوان کو بتایا کہ حال ہی میں فچ اور موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے جو پانڈہ بانڈ کے ذریعے بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس کو متوجہ کرنے اور پاکستان کے مالیاتی استحکام کو متنوع بنانے کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس موقع پر دبئی اسلامک بینک کی جانب سے حکومت پاکستان کو مختلف قرضوں کی پیشکش اور اس حوالے سے قریبی اشتراک کار کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکا کے ایکسپورٹ۔ امپورٹ (ایگزم )بینک کی صدر ریٹا جو لیوس سے بھی ملاقات کی ۔ انہوں نے دونوں ممالک کے ایگزم بینک کے درمیان قریبی اشتراک کار اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان میں توانائی ، معدنیات اور آئی ٹی کے شعبوں میں ایگزم بینک امریکا کی دلچسپی پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان کی مارکیٹس میں سرمایہ کاری کے حوالے ایگزم بینک کو حکمت عملی مرتب کرنے کےلئے ڈیٹا شیئر کیا جائے گا ۔ وزیر خزانہ نے ایگزم بینک کے ذریعے فنانس یا انشور کئے گئے سامان اور خدمات کے حوالے سے امریکا کے ضروری تقاضوں پر وضاحت بھی طلب کی۔ وزیر خزانہ نے دیگر مصروفیات میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ پلینری میٹنگززمیں شرکت ، چائنیز گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (سی جی ٹی این) کو تفصیلی انٹرویو بھی دیا اور ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی جانب سے مشترکہ سے استقبالیہ میں بھی شرکت کی۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=517180