وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے ایس پی ڈی سی کے وفد کی ملاقات

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پیر کو سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی) کے ایک وفد نے تفصیلی اور جامع ملاقات کی جس کی قیادت چیئرمین ایس پی ڈی سی جاوید جبار کر رہے تھے۔وفد میں ایس پی ڈی سی کے بورڈ ممبران احمد فاروق بزئی، مہتاب اکبر راشدی، نوید کامران بلوچ اور ڈاکٹر صبا گل خٹک شامل …

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پیر کو سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی) کے ایک وفد نے تفصیلی اور جامع ملاقات کی جس کی قیادت چیئرمین ایس پی ڈی سی جاوید جبار کر رہے تھے۔وفد میں ایس پی ڈی سی کے بورڈ ممبران احمد فاروق بزئی، مہتاب اکبر راشدی، نوید کامران بلوچ اور ڈاکٹر صبا گل خٹک شامل تھیں۔

ملاقات میں ملک کو درپیش اہم ساختی، مالیاتی اور سماجی و معاشی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور ایس پی ڈی سی کی جانب سے پائیدار شراکت اور شواہد پر مبنی پالیسی معاونت کے امکانات پر غور کیا گیا۔وزیر خزانہ نے ایس پی ڈی سی کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی پالیسی مباحثے میں ادارے کی تین دہائیوں پر محیط آزاد اور غیر جانبدار تحقیقی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے بین الحکومتی مالیاتی تعلقات کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایس پی ڈی سی کے دیرینہ کردار کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش پیچیدہ معاشی اور حکمرانی کے مسائل کے حل کے لئے باخبر اور تکنیکی طور پر مضبوط آراء نہایت اہم ہیں۔ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے حکومت کے جاری ادارہ جاتی اصلاحات اور رائٹ سائزنگ ایجنڈے پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار انداز میں شفافیت اور مؤثریت کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد روزگار میں کمی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ناکامیوں، مالیاتی ضیاع، غیر ضروری سبسڈیز اور سرکاری ملکیتی اداروں میں موجود ساختی کمزوریوں کا ازالہ ہے جو قومی خزانے پر بوجھ بن رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رائٹ سائزنگ سے متعلق سفارشات کابینہ میں غور کے مراحل سے گزر رہی ہیں تاکہ بہتر سروس ڈیلیوری اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) سے متعلق حالیہ پیشرفت سے بھی وفد کو آگاہ کیا اور بتایا کہ ابتدائی اجلاس مثبت اور تعمیری رہا جس سے وفاق اور صوبوں کے درمیان مکالمے کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ این ایف سی کے مختلف پہلوؤں پر تکنیکی گفتگو کے لئے آٹھ ورکنگ گروپس قائم کر دیئے گئے ہیں جو مکمل طور پر اتفاقِ رائے کی بنیاد پر کام کریں گے۔ وزیر خزانہ نے این ایف سی میں وسائل کی تقسیم اور بین الحکومتی مالیاتی انتظامات سے متعلق امور پر ایس پی ڈی سی کو تجزیاتی معاونت فراہم کرنے کی دعوت دی۔

حکمرانی اور شفافیت کے حوالے سے وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی معاونت سے ہونے والے ڈائیگناسٹک اور گورننس اسسمنٹ اور اس کی سفارشات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ حکومت ان سفارشات پر عمل درآمد کے لیے وقت سے جڑا ایکشن پلان تیار کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اثاثہ جات کے گوشواروں اور عوامی انکشافات سمیت جاری اصلاحات کا ذکر کیا اور ادارہ جاتی احتساب اور انسدادِ بدعنوانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ایس پی ڈی سی کی تجاویز کا خیرمقدم کیا۔

ملاقات میں پاکستان کو درپیش دو اہم طویل المدتی چیلنجز، یعنی موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ، پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے معاشی اثرات دن بدن بڑھ رہے ہیں، شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے معیشت، زراعت اور مالیاتی استحکام متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے ابتدائی وارننگ سسٹمز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں بہتری کا ذکر کیا تاہم پالیسی ترجیحات اور بجٹ میں تسلسل کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

آبادی کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ اصل مسئلہ مذہبی یا ثقافتی نہیں بلکہ سہولیات تک رسائی، آگاہی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے شواہد پر مبنی عوامی پالیسی ناگزیر ہے۔ایس پی ڈی سی کے وفد نے وزارتِ خزانہ کے لئے ممکنہ تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کی جن میں بین الحکومتی مالیاتی تجزیہ، این ایف سی کے لئے وسائل کی تقسیم کے ماڈلز، ٹیکس پالیسی اور وسائل کی بہتر وصولی شامل ہیں۔

وفد نے صحت سے متعلق ٹیکسوں خصوصاً تمباکو اور شوگر سویٹینڈ مشروبات پر ٹیکسز کو ایسی پالیسیوں کے طور پر اجاگر کیا جو بیک وقت عوامی صحت کو بہتر بنانے اور آمدن بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔وفد نے ٹیکس پالیسی ماڈلنگ میں ایس پی ڈی سی کی صلاحیتوں اور شواہد پر مبنی تجاویز پر بھی روشنی ڈالی جو ٹیکس پالیسی آفس کے کام میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں اور سال بھر مالیاتی فیصلوں کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

دونوں فریقین نے سالانہ بجٹ سے ہٹ کر بھی مسلسل اور منظم روابط کی اہمیت پر اتفاق کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قریبی تعاون کے ذریعے تحقیقی علم کو مؤثر عملدرآمد میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ ملاقات میں قومی ترقی اور پائیدار معاشی اصلاحات کے لئے آزاد تحقیق سے بھرپور استفادہ اور باقاعدہ رابطے جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔