اسلام آباد۔16جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے کینیا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) پیٹر مبوگو نجیرو نے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعاون خصوصاً زراعت اور تجارت کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے ہائی کمشنر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے کینیا کے ساتھ زرعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان موجودہ دو طرفہ تجارتی حجم تقریباً 1 ارب امریکی ڈالر ہے جس میں پاکستان کی جانب سے چاول، کپاس اور بیج برآمد کیے جاتے ہیں جبکہ کینیا سے چائے اور دیگر اجناس کی تقریباً 35 کروڑ ڈالر مالیت کی درآمدات کی جاتی ہیں۔ دونوں ممالک نے زرعی اشیاء کی تجارت کو مزید وسیع اور متنوع بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
کینیا کے ہائی کمشنر نے زرعی اداروں کے ساتھ اشتراک میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ جلد ہی پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کا دورہ کریں گے تاکہ مشترکہ زرعی تحقیق اور اختراعات کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ وفاقی وزیر نے پی اے آر سی کے ملک بھر میں قائم 44 خصوصی تحقیقی اداروں کے نیٹ ورک کو اجاگر کرتے ہوئے بیج کی ترقی، لائیو سٹاک، کپاس کی پیداوار اور زرعی مشینری جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے پاکستان کی آمادگی ظاہر کی۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان-کینیا جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی (جے ٹی سی) کا اجلاس 11 سے 18 ستمبر 2025ء کو اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔
اس موقع پر زراعت اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات چیت اور ممکنہ دستخط متوقع ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے اور زرعی تجارت و علم کے تبادلے کو فروغ دینے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔رانا تنویر حسین نے اس بات کا بھی خیرمقدم کیا کہ کینیا پاکستان کو ایووکاڈو، آم، پھول اور چائے جیسی زرعی مصنوعات برآمد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ایووکاڈو کی درآمد میں دلچسپی ظاہر کی اور اس کی معیاری پیداوار اور مسابقتی قیمت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کینیا سے زرعی درآمدات کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے تیار ہے۔کینیا کے ہائی کمشنر نے ملاقات میں بتایا کہ کینیا میں 2000 سے 3000 کے درمیان پاکستانی شہری مختلف شعبوں جیسے ہاسپٹیلٹی، بینکاری، آٹو موبائل ٹریڈ اور ترقیاتی کاموں میں سرگرم عمل ہیں جن میں آغا خان فائونڈیشن بھی شامل ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستانی برادری کے کردار کو سراہا اور عوامی روابط کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم قرار دیا۔یہ بات بھی نوٹ کی گئی کہ کینیا پاکستان کے نیشنل ایگریکلچرل فائونڈیشن اور نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد جیسے اداروں کے ساتھ تعاون رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے ان ادارہ جاتی روابط کو مزید وسعت دینے، مشترکہ منصوبوں، تحقیقی شراکت داری اور ٹیکسٹائل، چمڑے اور زرعی پراسیسنگ میں تکنیکی منتقلی کو فروغ دینے پر زور دیا۔ہائی کمشنر نے پاکستان کی دیرینہ حمایت کو سراہا، خاص طور پر دفاعی تربیت کے میدان میں اور بتایا کہ کینیا کی بری اور بحری افواج کے کئی افسران نے پاکستان کے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ جیسے اداروں سے تربیت حاصل کی ہے۔
ہائی کمشنر نے کینیا کی یوم آزادی کی تقریب میں شرکت پر وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور اسے خیرسگالی اور باہمی احترام کی علامت قرار دیا۔ فریقین نے 1964ء میں قائم ہونے والے تاریخی سفارتی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور ادارہ جاتی روابط اور شعبہ جاتی تعاون کو ازسر نو فعال بنانے پر اتفاق کیا۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی قیادت میں پاکستان کی زرعی سفارتکاری اور بین الاقوامی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم پر قائم ہے۔