فیصل آباد ۔ 16 اکتوبر (اے پی پی):پاکستان میں کھجور کا زیرکاشت رقبہ 91145ہیکٹراورپیداوارساڑھے5لاکھ ٹن سالانہ تک پہنچ گئی ہے جس میں پنجاب کا حصہ صرف5781ہیکٹرپرمشتمل ہے نیزپاکستان میں کھجور کی پیداوار کے حساب سے سندھ پہلے اوربلوچستان دوسرے نمبر پر آگیاہے۔
جامعہ زرعیہ فیصل آبادکے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹراقرار احمد خان نے اے پی پی کو بتایا کہ پاکستان میں 300سے زائد کھجور کی اقسام پائی جاتی تھیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ مختلف عوامل کی وجہ سے یہ تعداد50 تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جس کیلئے کمرشل ٹشوکلچر کو فروغ دیتے ہوئے نایاب ہونیوالی اور پاکستان کے ماحول سے ہم آہنگ غیرملکی اقسام کی کاشت پر سائنسی بنیادوں پر کام کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا شماراگرچہ دنیا کے بڑے کھجور پیدا کرنیوالے ممالک میں ہوتا ہے مگر ویلیوایڈیشن نہ ہونے کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں ہماری کھجور کی ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے تاہم اگر جدید زرعی رحجانات اور ویلیوایڈیشن کو ملکی سطح پر فروغ دیا جائے تو نہ صرف کھجور کی پیداواریت میں خودکفالت حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھاس کی برآمد سے اربوں روپے کا زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ ویلیوایڈیشن اور جدید طریقہ کاشت کو اپناتے ہوئے ملکی سطح پر کھجور کی پیداواریت کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کر کے زرعی معیشت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کھجور کی پیداوار تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ ٹن سالانہ ہے تاہم روایتی طریقوں کی وجہ سے ایکسپورٹ صرف چھوہارے تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو ویلیوایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی اور پیسٹ مینجمنٹ سے روشناس کراتے ہوئے نہ صرف معیشت کو بہتربلکہ پیداواریت میں اضافے اور فوڈ سیکورٹی کو بھی یقینی بنایا جا سکتاہے۔