ٹی اے ایف-اے بی ایل پبلک سیکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایوارڈز کی تقریب، نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو اعزازات سے نوازا گیا،وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کی بطور مہمان خصوصی شرکت

"ٹیک ایڈوائزری فورم (ٹی اے ایف) اور الائیڈ بینک لمیٹڈ (اے بی ایل) نے اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ اور پاکستان سنگل ونڈو کے اشتراک سے پہلے ٹی اے ایف-اے بی ایل پبلک سیکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایوارڈز 2026 کی تقریب کا انعقاد کیا۔”

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):ٹیک ایڈوائزری فورم (ٹی اے ایف ) اور الائیڈ بینک لمیٹڈ (اے بی ایل )نے اگنائٹ نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ اور پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کے اشتراک سے پہلے ٹی اے ایف-اے بی ایل پبلک سیکٹر ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایوارڈز 2026 کی تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، ٹیکنالوجی کے ماہرین، ترقیاتی اداروں کے نمائندوں، ماہرین تعلیم اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تاکہ سرکاری شعبے میں جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے نمایاں اقدامات کو سراہا جا سکے۔ان ایوارڈز کے تحت ایسے افراد، اداروں اور منصوبوں پر کام کرنے والی ٹیموں کو اعزازات دیئے گئے جنہوں نے نئی سوچ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال اور شہریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے ذریعے پاکستان کو ڈیجیٹل ملک بنانے کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تقریب میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی حکومتی امور کو زیادہ موثر بنانے، زیادہ سے زیادہ شہریوں تک سہولتیں پہنچانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد اور اداروں میں ایوارڈز تقسیم کیے۔ تقریب میں ترقیاتی اداروں کے نمائندوں، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ماہرین، پالیسی سازوں، مختلف صنعتوں کے نمائندوں اور وسطی ایشیا ریجنل اکنامک کوآپریشن (سی اے آر ای سی) پروگرام کے رکن ممالک کے سرکاری و نجی شعبوں کے ڈیجیٹل امور کے ذمہ دار حکام نے بھی شرکت کی۔ ایوارڈز مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر دیئے گئے جن میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، منصوبوں کی کامیاب تکمیل، سرکاری و نجی شعبوں کے اشتراک، تعلیمی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل صلاحیتوں کے فروغ، ماحول دوست ٹیکنالوجی، ڈیٹا کے موثر استعمال پر مبنی جدت، مختلف ڈیجیٹل نظاموں کے انضمام، شہریوں کے لیے بہتر خدمات، صحت، مالیاتی ٹیکنالوجی، علاقائی روابط اور موثر قیادت شامل تھے۔تقریب میں پاکستان اے آئی ریڈینس رپورٹ بھی پیش کی گئی جو ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے سرکاری اور نجی شعبے کے مختلف فریقوں سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی۔ رپورٹ میں یہ جائزہ پیش کیا گیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کو اپنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کس حد تک تیار ہے تاکہ جامع معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکے اور سرکاری شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔نمایاں اعزازات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ریونیو اصلاحات اور (سی اے آر ای سی) ریجنل کنیکٹیویٹی انوویشن کے شعبے میں ایوارڈ دیا گیا جبکہ وزارت تعلیم کو کنیکٹڈ کلاس رومز سسٹم پر اعزاز سے نوازا گیا۔ پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کو ’’ڈیٹا انوویشن آف دی ایئر‘‘ ایوارڈ اس کے ایسے ڈیجیٹل نظام پر دیا گیا جس نے مربوط اور ڈیٹا پر مبنی خدمات کے ذریعے سرحد پار تجارت کو زیادہ تیز، شفاف اور موثر بنایا۔ نادرا کو پاکستان ای ویزا سسٹم، پاک آئی ڈی، سٹیزن ایکسپیرینس اور ای سہولت منصوبوں پر اعزازات دیئے گئے۔ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے ای پی اے ڈی ایس یعنی ای پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم کو بھی سراہا گیا۔پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید آفتاب حیدر کو سنگل ونڈو پلیٹ فارم کی کامیاب منصوبہ بندی، جدت اور موثر نفاذ میں قائدانہ کردار پر ’’ایڈاپٹو لیڈرشپ آف دی ایئر‘‘ ایوارڈ دیا گیا جبکہ فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) کو اپنے ’’ڈیپارچر فرام پنسل ٹو پکسل‘‘ منصوبے پر اعزاز ملا۔ دیگر کامیاب منصوبوں میں تعلیمی ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ، صحت، ڈیجیٹل تجارت، مالی شمولیت اور شہریوں کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کو بھی سراہا گیا۔وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کو ڈیجیٹل وژنری آف دی ایئر قرار دیا گیا۔ یہ اعزاز انہیں ڈیجیٹل نیشن پاکستان اقدام اور مصنوعی ذہانت کی قومی پالیسی کو آگے بڑھانے میں قیادت پر دیا گیا جو ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ الائیڈ بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایزید رزاق گل کو ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پیٹرن آف دی ایئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اب صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ قومی ترقی کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے جو حکومتی کارکردگی بہتر بنانے، عوامی خدمات کو موثر بنانے، معاشی ترقی کو فروغ دینے اور شہریوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔تقریب کے اختتام پر ٹیک ایڈوائزری فورم اور اس کے شراکت داروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جدت کے فروغ، مختلف فریقوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے اور ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھیں گے جو پاکستان کو مزید مربوط، جامع اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار ملک بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

مزید خبریں