پائیدارترقی کیلئے جدت کواپناناناگریز ہے، پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبہ میں عالمگیرقائد بننے کااہل ہے ، وفاقی وزیراحسن اقبال کابین الاقوامی سمٹ سے خطاب

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ پائیدارترقی کیلئے جدت کواپناناناگزیر ہے، تبدیلی میں علم اورتحقیق کااہم کردارہے،پاکستان کامستقبل روشن ہے، پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبہ میں عالمگیرقائد بننے کااہل ہے ،ہم نے بدقسمتی سے سیاست کو سوشل میڈیا کاکھیل بنادیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات منگل کویہاں’’ ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ‘‘ کے موضوع پر30ویں بین الاقوامی سمٹ کے افتتاحی سیشن سے بطورمہمان …

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ پائیدارترقی کیلئے جدت کواپناناناگزیر ہے، تبدیلی میں علم اورتحقیق کااہم کردارہے،پاکستان کامستقبل روشن ہے، پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبہ میں عالمگیرقائد بننے کااہل ہے ،ہم نے بدقسمتی سے سیاست کو سوشل میڈیا کاکھیل بنادیا ہے ۔ انہوں نے یہ بات منگل کویہاں’’ ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ‘‘ کے موضوع پر30ویں بین الاقوامی سمٹ کے افتتاحی سیشن سے بطورمہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہاکہ پائیدارترقی اورٹیکنالوجی میں جدت کیلئے اختراع ضروری ہے،ہماری نسل نے تختی سے فائیوجی تک کا سفردیکھاہے جوچھ دہائیوں پرمشتمل ہے آنے والے دورمیں دہائیوں کایہ سفرچھ سال سے بھی کم مدت میں مکمل ہوگا ،مستقبل پرنظررکھنے والے ہرملک کواس تبدیلی اورجدت کااحاطہ کرنا ہوگا،ہمیں تبدیلی کانشانہ بننے کی بجائے تبدیلی سے فائدہ اٹھانے پرتوجہ دینا ہوگی ۔

وفاقی وزیرنے کہاکہ جب ہم نے 1998میں وژن 2010بنایا تواس میں ہم نے ان تمام امورکااحاطہ کیا جن کاآج ہمیں سامنا ہے لیکن بدقسمتی سے دوسال بعد ملک میں ایک تبدیلی آئی جس نے ان ساری کوششوں کوردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔2013میں جب ہمیں دوبارہ حکومت ملی توہم نے پورے ملک سے ایک ہزاراذہان جمع کئے اوروژن 2025بنایا جس کاہدف یہ تھا کہ 2025تک ہم نے ملک کودنیاکی 20بڑی معیشتوں میں شامل کرنا ہے،2017میں پاکستان کاگلوبل برانڈسی پیک تھا پھرملک میں ایک مہنگا ترین تجربہ کیاگیا اورایک جوہری طاقت والے ملک کی کنجی ایک ایسے ڈرائیورکے حوالہ کی گئی جسے ایک یونین کونسل کوچلانے کابھی تجربہ نہیں تھا جب گاڑی اناڑی ڈرائیورکے حوالے کی جائے گی تووہ صرف ایکسیڈنٹ ہی کرے گا۔

اس کانتیجہ یہ نکلاکہ ترقی اورنموکی جورفتاربنی تھی وہ رک گئی، وہ دوست ملک جوہماری پشت پر تھا اورجس نے ایک ایسے ملک میں 25ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی جس ملک میں اس کے اپنے بڑے بڑے سیٹھ سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیارنہیں تھے ہم نے اس دوست ملک پرکرپشن کے الزامات لگائے اوراسے سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی اورچینی سرمایہ کاروں کویہاں سے اپنی سرمایہ کاری ویت نام ، لائوس اوردیگرممالک منتقل کرنے پرمجبورکردیا۔وفاقی وزیرنے کہاکہ سیاست سوشل میڈیا کاکھیل نہیں ہے ہم نے بدقسمتی سے سیاست کو سوشل میڈیا کاکھیل بنادیا ہے ، سوشل میڈیا ملک کی تقدیرکے فیصلے نہیں کرتا سوشل میڈیا صرف تفریح کیلئے ہے جب ملک کی تقدیرکے فیصلے سوشل میڈیا کے ذریعہ کئے جائے تووہی انجام ہوتا ہے جو ہمارا ہوا ہے۔

یکم اپریل 2022کوملکی تاریخ میں پہلی بار وزارت خزانہ نے ترقیاتی بجٹ کی آخری سہ ماہی کی قسط جاری کرنے سے انکارکیا اورکہاکہ ہمارے پاس ریلیز کرنے کیلئے ایک روپیہ نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یکم اپریل 2022کو پاکستان اندرونی طورپرڈیفالٹ کرگیاتھا۔کامیاب ایکوسسٹم کاانحصار امن، سیاسی استحکام پالیسیوں میں تسلسل اوراصلاحات اورجدت کیلئے عزم پرہے۔ انہوں نے کہاکہ اڑان پاکستان کے تحت 2035تک ملک کوایک ٹریلین ڈالرکی معیشت بناناہے، اڑان پاکستان میں سائنس،ٹیکنالوجی اورڈیجیٹل استعدادمیں اضافہ کو بنیادی ستونوں کی حیثیت حاصل ہے،آج ہرکوئی مصنوعی ذہانت کی بات کررہاہے 2017میں ہم نے مصنوعی ذہانت، سائبرسکیورٹی ، بگ ڈیٹاکلاوڈکمپیوٹنگ، آٹومیشن اینڈروبوٹک ، سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی اینڈجی آئی ایس اوراپلائیڈمیتھیمٹکس ، جینومکس کے نیشنل سینٹرز بنائے اورنیشنل سینٹرفارنینوٹیکنالوجی بنارہے تھی کہ حکومت ختم ہوگئی ، سال رواں میں نیشنل سینٹرفارنینوٹیکنالوجی، نیشنل سینٹرفارکوانٹم کمپوٹنگ اورنیشنل سینٹرفارنیومینوفیکچرنگ قائم کئے جارہے ہیں تاکہ نئی صنعتی انقلاب کیلئے ملکی صنعتوں کو تیار کیا جاسکے ۔

اس کے ساتھ ساتھ اسلام آبادمیں کوانٹم ویلی قائم کی جارہی ہے جومستقبل کی سیلیکون ویلی بنے گی جہاں انٹرپرینیور،اکیڈمیز اور وینچر کیپٹلسٹس باہم مل کر اختراع اورجدت کے سفرکوآگے بڑھا سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اختراع کے ذریعہ ا پنی مصنوعات کی مارکیٹنگ پرتوجہ مرکوزکرنا ہے،ہمیں اپنی صنعتوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعہ مسابقتی بنانے پرتوجہ مرکوزکرنا ہے اس کیلئے صنعتوں اوراکیڈیمیا کے درمیان تعاون ضروری ہے اس مقصد کیلئے حکومت ہائیرایجوکیشن اور دوسرے اداروں کے ساتھ کام کررہی ہے۔کامیابی کے سفرکوجاری رکھنے کیلئے اختراع اورآراین ڈی پرتوجہ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ پاکستان کامستقبل روشن ہے اورانشاءاللہ پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبہ میں عالمگیرقائد بننے کااہل ہے ، جوملک بے سروسامانی کی حالت میں ایٹم بم بناسکتا ہے جو ملک جے ایف17جہازبناسکتا ہے وہ صنعتی مصنوعات کیوں نہیں بناسکتا۔