پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے صنعت کے تمام شعبوں میں کثیر جہتی پالیسیوں کی ضرورت ہے، میاں کاشف اشفاق

لاہور۔11ستمبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل( پی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پائیدار اقتصادی ترقی، مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے اور آئی ٹی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کو اکیڈمیا سمیت صنعت کے تمام شعبوں میں کثیر جہتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ بدھ کو یہاں پی ایف سی کے زیراہتمام آئی ٹی اور مستقبل کے چیلنجز …

لاہور۔11ستمبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل( پی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ پائیدار اقتصادی ترقی، مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے اور آئی ٹی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کو اکیڈمیا سمیت صنعت کے تمام شعبوں میں کثیر جہتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ بدھ کو یہاں پی ایف سی کے زیراہتمام آئی ٹی اور مستقبل کے چیلنجز کے موضوع پر سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے دنیا ڈیجیٹل ہوتی جا رہی ہے آئی ٹی معاشی ترقی، سکیورٹی، تعلیم اور عوامی خدمات کی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 30 سال سے کم عمر آبادی کل ملکی آبادی کا تقریبا 64 فیصد ہے اور اتنی بڑی تعداد میں افرادی قوت آئی ٹی انقلاب برپا کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اس صلاحیت سے استفادے کے لیے ٹارگٹڈ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں آئی ٹی خدمات کی برآمدات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، آئوٹ سورسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور فری لانسنگ پر توجہ مرکوز کرکے پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی ٹیک سیوی افرادی قوت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں انقلابی اور دیرپا اقدامات سے پاکستان اپنی آئی ٹی صلاحیت کو معاشی اور سماجی ترقی کا سنگ بنیاد بنا سکتا ہے۔

سی ای او پی ایف سی نے کہا کہ پاکستان کو آئی ٹی انفراسٹرکچر میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر دیہی علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی میں اضافہ اس بڑی آبادی کی ڈیجیٹل شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، یونیورسٹیوں، نجی شعبے اور حکومت کے درمیان تعاون اس ضمن میں سہولت فراہم کر سکتا ہے۔

آئی ٹی پروفیشنلز کے سی ای او میاں فیض بخش آرائیں نے کہا کہ انٹرپرینیورشپ اور اختراعات کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیاں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، ٹیک ہبز کے قیام، سٹارٹ اپس کے لیے ٹیکس مراعات اور ریگولیٹری فریم ورک کو سہل بنا کر جدت طرازی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل سسٹمز پر انحصار مسلسل فروغ پذیر ہے اس لئے سائبر خطرات سے نمٹنا بھی بہت ضروری ہے، مضبوط سائبر سکیورٹی فریم ورک کاروبار، اداروں اور افراد کو ان بڑھتے ہوئے خطرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔