اسلام آباد۔26جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی اصلاحات وخصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے وسائل میں اضافہ ضروری ہے،پالیسیوں کا تسلسل ہی اقتصادی مسائل سے نکلنے کا واحد راستہ ہے، معاشی بہتری کے لئے حکومت اور تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو آل چیمبرز آف کامرس کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے صنعتوں کے لئے دس روپے فی یونٹ بجلی سستی کی ہے،معاشی حالات کی بہتری سے روپے کی قدر بڑھے گی اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے،اب وقت ہے کہ ہم سب دس سال کا نیشنل پلان بنا کر اس پر عمل کریں ،زراعت کے شعبے میں بے شمار مواقع ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پہلی بار پاک چین دونوں ممالک کے نجی سیکٹر کے درمیان 1000 سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں ،ہمارے اصلاحاتی ایجنڈے کی بدولت سی پیک منصوبے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجوں کو سامنے رکھ کر بجٹ پیش کیا گیا ہے،ان حالات میں اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگلے 5 سال کیلئے سیاسی اور پالیسی تسلسل کو جاری رکھنا ہوگا، ہم نے 75 سال میں سیاسی اور پالیسی تسلسل نہ ہونے سے نقصان اٹھایا ہے حالانکہ ہم دنیا میں محنتی اور جفاکش قوم کے طور پر مشہور ہیں،ہمیں 5ایز کے تحت مل کر کام کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں غربت ، بے روزگاری اور بیماریوں سمیت بڑے بڑے چیلنجز درپیش ہیں ، ہمیں تعلیم ، صحت ، ٹیکنالوجی کیلئے سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے،ہمیں آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے ، دوسرے مرحلے میں پاک چین بی ٹو بی تعلقات کو فروغ دیا جائے گا،ہمیں برآمدات کیلئے اضافی مصنوعات کی تیاری کو یقینی بنا ہوگا۔ احسن اقبال نے کہا کہ اگر ہمارے نوجوان آئی ٹی کی تربیت حاصل کرلیں تو آن لائن بزنس کو فروغ مل سکتا ہے، چین کے ماہرین اگلے ماہ زراعت،مائنز، آئی ٹی کے شعبوں میں بہتری کیلئے رہنمائی فراہم کریں گے،ہمیں ترقی کرنے کیلئے منفی رویوں سے نکل کر مثبت رویوں کو اپنانا ہوگا۔