اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):دو نوجوان پاکستانی فلم ساز شہریار علی اور سہیل احمد نے اپنی مختصر فلموں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے کیونکہ ان کی فلموں کو بیرونِ ملک بڑے فلمی میلوں میں سراہا گیا اور منتخب کیا گیا ہے۔دونوں فلم سازوں کی مختصر فلمیں "اے ڈور ٹو مائی میموری" اور "ٹاکسِسِٹی" — بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر رہی ہیں۔"اے ڈور ٹو …
پاکستانی فلم سازوں کو مختصر فلموں پر عالمی سطح پر پذیرائی حاصل

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):دو نوجوان پاکستانی فلم ساز شہریار علی اور سہیل احمد نے اپنی مختصر فلموں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کی ہے کیونکہ ان کی فلموں کو بیرونِ ملک بڑے فلمی میلوں میں سراہا گیا اور منتخب کیا گیا ہے۔دونوں فلم سازوں کی مختصر فلمیں "اے ڈور ٹو مائی میموری” اور "ٹاکسِسِٹی” — بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر رہی ہیں۔”اے ڈور ٹو مائی میموری”جو ایک پنجابی سائنسی فکشن ڈرامہ ہے جسے شہریار علی نے ڈائریکٹ کیا جبکہ سہیل احمد نے پروڈیوس کیا۔ اس فلم کا عالمی پریمیئر سیئٹل واشنگٹن میں منعقد ہونے والے تسویِر فلم فیسٹیول میں ہواجو دنیا کا واحد آسکر کوالیفائنگ جنوبی ایشیائی فلمی میلہ ہے۔
فلم کو اس کی جدت، جذباتی گہرائی اور تخلیقی کہانی پر سراہا گیا۔کہانی ایک فرضی دنیا میں پیش کی گئی ہے جہاں انسانوں کی یادداشتیں بیرونی ڈرائیوز پر محفوظ کی جاتی ہیں۔ فلم کا مرکزی کردار اشفاق ایک 65 سالہ شخص ہے جو اپنی پرانی یادوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے جب کہ اس کی یادداشت کا “سٹوریج سپیس” ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ یہ کہانی محبت، نقصان اور انسانی رشتوں کی نزاکت کی ایک گہری علامت ہے۔امریکا میں کامیابی کے بعد "اے ڈور ٹو مائی میموری” کو کئی دیگر بین الاقوامی فلمی میلوں میں بھی منتخب کیا گیا ہےجہاں یہ فی الحال سیمی فائنلسٹ کے طور پر شامل ہے۔
دوسری جانب دونوں فلم سازوں کی دوسری فلم "ٹاکسِسِٹی” کو بھی عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ یہ فلم سہیل احمد اور شہریار علی نے مشترکہ طور پر ڈائریکٹ کی اور اس کا عالمی پریمیئر فیسٹیول انٹرنازیونال نیبروڈی سینما ڈاک میں سسلی، اٹلی میں ہوا۔یہ فلم سموگ کے بحران پر ایک تبصرہ ہےجس میں دو نوجوان کاروباری شخصیات کی کہانی دکھائی گئی ہے جو یہ ثابت کرنے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں کہ صاف توانائی انسانی جانیں بچا سکتی ہے۔
"ٹاکسِسِٹی” سسلی کے میلے میں منتخب ہونے والی واحد پاکستانی فلم تھی جہاں اسے بہترین مختصر کہانی پر مبنی فلم کے ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا اور جیوری کی جانب سے(مینزیان ڈی اونر )اعزاز حاصل ہوا۔بین الاقوامی سطح پر اس کامیابی کے بعد دونوں فلم ساز جلد ہی ان منصوبوں کو پاکستان میں مقامی نمائشوں اور فلمی میلوں کے ذریعے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔








