پشاور۔ 24 اگست (اے پی پی):پاکستانی کوہ پیماؤں نے ہندوکش کی بلند ترین چوٹی تریچ میر سر کرتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرا دیا۔ خیبر پختونخوا ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ہندوکش پہاڑی سلسلے کی بلند ترین تریچ میر پر کوہ پیماؤں نے پرچم لہرا دیا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر تریچ میر چوٹی سرکرنے کیلئے اقدام اٹھایا، ڈائریکٹر ٹورازم اتھارٹی عمر خان کے مطابق گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیماؤں سرباز خان اور عابد بیگ نے تریچ میر چوٹی سر کی، ٹیم میں دیگر 5 کوہ پیماء سخت موسمی صورتحال کے باعث 7 ہزار 300 میٹر تک پہنچ سکے،
کوہ پیماؤں میں ڈائریکٹر ٹورازم اتھارٹی عمر خان، ڈاکٹر نوید اقبال، میجر محمدعاطف، شمس القمر اور اکمل نوید شامل تھے، ڈائریکٹر ٹورازم اتھارٹی عمر خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کے زیراہتمام تریچ میر سمٹ کا انعقاد کیا گیا اور وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایات پر قومی کوہ پیماؤں کو بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے پاکستانی کوہ پیماؤں کو تریچ میر چوٹی سر کرنے پر مبارک باد دی ہے۔ تریچ میر چوٹی ہندوکش پہاڑی سلسلہ کی 7 ہزار 708 میٹر کی بلند ترین چوٹی ہے، خیبر پختونخوا حکومت نے سال 2025-26 تریچ میر سال کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین گنڈا پور صوبے میں ایڈونچر سیاحت کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کررہے ہیں، حکومت خیبر پختونخوا نے کوہ پیماؤں کیلئے 2 سال کی رائیلٹی فیس بھی معاف کی ہے۔ اس موقع پر کوہ پیماء سرباز خان نے کہا کہ تریچ میر چوٹی سر کرنے کا خواب خیبر پختونخوا حکومت کی بدولت تکمیل تک پہنچا،
خیبرپختونخوا حکومت نے تریچ میر اور چترال کی جانب بڑھایا، تین پہاڑی سلسلے ہندوکش، ہمالیہ اور قراقرم کی بلند ترین چوٹیاں سرکرنے کا خواب پورا ہوا۔ کوہ پیماء سرباز خان نے کہا کہ تریچ میر چوٹی کیساتھ دیگر کئی چوٹیاں موجود ہیں جو مستقبل میں ایڈونچر ٹورازم کا فروغ کا باعث بنیں گی۔ تریچ میر سمٹ کے نام سے اب دنیا سے پورٹرز پاکستان اور خصوصاً چترال کا رخ کریں گے۔