اسلام آباد ۔ 18 نومبر (اے پی پی) پاکستان آئندہ برس استنبول عمل کے آٹھویں اجلاس کی میزبانی کرے گا جس کا مقصد مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور استحصال کے رحجانات کی روک تھام پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ یہاں دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم اور وزیراعظم کے خصوصی نمائندے برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی شفقت …
پاکستان آئندہ برس استنبول عمل کے آٹھویں اجلاس کی میزبانی کرے گا‘ اجلاس کا مقصد مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور استحصال کے رحجانات کی روک تھام پر توجہ مرکوز کرنا ہے‘ دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 18 نومبر (اے پی پی) پاکستان آئندہ برس استنبول عمل کے آٹھویں اجلاس کی میزبانی کرے گا جس کا مقصد مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے عدم برداشت اور استحصال کے رحجانات کی روک تھام پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ یہاں دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم اور وزیراعظم کے خصوصی نمائندے برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی شفقت محمود نے یہ اعلان پیر کو ہالینڈ کے دارالحکومت ہیگ میں منعقدہ استنبول عمل کے ساتویں اجلاس سے اپنے کلیدی خطاب کے دوران کیا ہے۔ وفاقی وزیر نے دنیا کے مختلف حصوں میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے خطرناک رجحانات کی طرف توجہ مبذول کرائی جس کا ثبوت بین الاقوامی سطح پر نفرت انگیز جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات، منفی رویے، مسلمان خواتین کے حجاب پہننے، مسلمان شخصیات اور شعائر اسلام پر حملے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انتخابی مقاصد کےلئے دیئے گئے بڑے بڑے بیانات اور مقبولیت کیلئے کی گئی بیان بازیاں، میڈیا کے بعض شعبوں میں کئے گئے اعلانات جو نفرت انگیزی پھیلانے کا سبب ہوتی ہیں اکثر تشدد، اشتعال انگیزی اور استحصالی نظام کا پیش خیمہ ہوتے ہیں اور بعض واقعات میں دہشت گردی کا بھی سبب بنتی ہیں۔ انسانی حقوق کو فروغ اور ایسے رجحانات کے اسباب ختم کرنے کے تناظر میں وفاقی وزیر شفقت محمود نے غیر ملکی قبضہ کے خلاف لوگوں کے حق خودارادیت کے حق کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالہ سے انسانی حقوق کے علمبرداروں کی چشم پوشی اور دوہرے معیارات کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور ریاستی سرپرستی میں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ بنیادی آزادیوں کی بالادستی کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر تعلیم نے ذمہ داری کے ساتھ اظہار رائے کی آزادی کے حق کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ اس حوالہ سے آن لائن اور آف لائن دونوں اعتبار سے معقول پابندیوں پر غور شروع کرنا چاہئے۔شفقت محمود نے پاکستان کی طرف سے تعلیم کے شعبہ، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ، رواداری اور مذہبی آزادی یا عقیدہ کے حوالہ سے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے کرتارپور صاحب راہداری کھولنے کے پاکستان کے بڑے حالیہ اقدام کو بھی اجاگر کیا۔ استنبول عمل انسانی حقوق کونسل میں اتفاق رائے پر مبنی قرارداد کے عملی طریقہ کار کی نمائندگی کرتا ہے جو مذہبی عدم برداشت، منفی دقیانوسی سوچ، مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور اشتعال انگیزی کے خاتمہ کےلئے 8 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمد کی کوششوں کا متقاضی ہے، 2011ءسے اب تک اس عمل کی سات میٹنگز ہو چکی ہیں۔







