پاکستان ادارہ شماریات کی ڈیٹا صارفین اور ڈیٹا پروڈیوسرز کے درمیان ڈائیلاگ ورکشاپ

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس ) نے یو این ایف پی اے پاکستان کے تعاون سے ڈیٹا صارفین اور ڈیٹا پروڈیوسرز کے درمیان ایک ڈائیلاگ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور جی بی کے سٹیک ہولڈرز اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ تمام سٹیک ہولڈرز کی شرکت نے متنوع نقطہ نظر کو جمع کرنے، ضروریات کی نشاندہی …

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس ) نے یو این ایف پی اے پاکستان کے تعاون سے ڈیٹا صارفین اور ڈیٹا پروڈیوسرز کے درمیان ایک ڈائیلاگ ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور جی بی کے سٹیک ہولڈرز اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ تمام سٹیک ہولڈرز کی شرکت نے متنوع نقطہ نظر کو جمع کرنے، ضروریات کی نشاندہی کرنے اور ڈیٹا کی تقسیم کے عمل میں موجود کسی بھی خلا کو دور کرنے میں مدد کی۔

چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر (ایس آئی)، ممبر آر ایم / ایس ایس محمد سرور گوندل (ایس آئی)، ممبر سی اینڈ ایس ایاز الدین، سید اعجاز واسطی اور پی بی ایس کے سینئر افسران اور یو این ایف پی اے کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔کلیدی تقاریر اور تقریبات میں ڈی ڈی جی رابعہ اعوان کے خیرمقدمی کلمات، یو این ایف پی اے کے نمائندے ڈاکٹر لوئے شبانہ کے تبصرے، ڈاکٹر نعیم الظفر (ایس آئی)، چیف شماریات پی بی ایس کی طرف سے ڈیٹا کی ترسیل کے بارے میں پی بی ایس کے وژن پر مختصر پریزنٹیشن شامل تھی۔ بین الاقوامی ماہر سفیان ابو حرب کی طرف سے ڈیٹا کی تقسیم کی حکمت عملیوں کو انٹرایکٹو انداز میں پیش کیا۔

ڈاکٹر نعیم الظفر نے پہلی ڈیجیٹل مردم شماری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پی بی ایس کی تاریخ اور افعال پیش کرتے ہوئے سیاق و سباق کا تعین کیا، ڈیٹا کی تقسیم کی پالیسی کے لئے ڈیٹا استعمال کرنے والوں اور پروڈیوسرز کی شمولیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس پر روشنی ڈالی۔ ڈیٹا کو مزید کارآمد بنانے کے طریقہ کار پر ان کے ان پٹ کی اہمیت، ڈیٹا کی تقسیم کے موجودہ طریقے بھی پریزنٹیشن کا حصہ تھے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسٹیک ہولڈر کے اشتراک سے ڈیٹا کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کے نمائندے ڈاکٹر لوئے شبانہ نے مردم شماری کی کامیاب تکمیل کوسراہا اور پی بی ایس کو پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے بینچ مارک حاصل کرنے پر مبارکباد دی

انہوں نے مزید کہا کہ باخبر فیصلہ سازی کے لیے پاکستان میں ڈیٹا کو سمجھنا اور مناسب طریقے سے استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔سیکرٹری پی ڈی اور ایس آئی اویس منظور سومرا نے توقع ظاہر کی کہ ورکشاپ صارف کی ضروریات اور ڈیٹا کی ضروریات ، ڈیٹا پروڈیوسر اور صارف دونوں کو درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کرنے کے قابل ہو گی۔ یہ ورکشاپ ٹارگٹڈ اور موزوں ڈیٹا کی تقسیم کو ڈیزائن کرنے اور ڈیٹا کی رسائی کو بڑھانے میں مدد کرے گی۔ یہ ورکشاپ ایک قابل اعتبار قومی ڈیٹا کی تقسیم کی پالیسی وضع کرنے کے لئے ایک سنگ میل طے کرے گی جو تمام سٹیک ہولڈرز کو انٹرایکٹو اور دوستانہ انداز میں ڈیٹا کو صحیح طریقے کے قابل بنائے گی۔

فلسطین سے تعلق رکھنے والے سفیان ابو حرب(ہیڈ آف سروسز،سینٹرل بیورو آف سٹیٹسٹکس) نے ڈیٹا کی تقسیم کی حکمت عملیوں کو انٹرایکٹو انداز میں پیش کیا اور صارفین کی ضروریات کے مطابق ڈیٹا کو پھیلانے پر زور دیا۔ شماریاتی دفتر کو ڈیٹا صارفین کےضروریات کے بارے میں فعال ہونا چاہئے جس سے ڈیٹا کی تقسیم مختلف زاویوں سے ڈیٹا صارفین کے لئے پرکشش بن سکتی ہے۔ورکشاپ کے شرکا پر مشتمل پانچ گروپس جن کا پس منظر مختلف ہے۔ ورکشاپ کے مندرجہ ذیل موضوعاتی شعبوں پر غور و خوض اور اپنی سفارشات مرتب کرنے کے لئے تشکیل دیئے گئے ہیں،

صارف کی ابھرتی ہوئی ضروریات اور ڈیٹا کی ضروریات، ڈیٹا کے پھیلاؤ اور رسائی میں چیلنجز، ویب پر مبنی ڈیٹا کے پھیلاؤ کے لئے حکمت عملی، اعداد و شمار کے پھیلاؤ کے لئے شراکت داری، پاکستان میں اعداد و شمار کے پھیلاؤ پر منظم رائے کا طریقہ کار۔تمام گروپوں نے موضوعاتی شعبوں سے متعلق اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ورکشاپ شرکاء کو مشغول کرنے ، متعلقہ مسائل پر تبادلہ خیال کرنے ، قیمتی آراء جمع کرنے اور ڈیٹا پروڈیوسروں اور صارفین کے مابین مضبوط تعاون کی توقعات کو فروغ دینے میں کامیاب رہی۔

یہ ورکشاپ نہ صرف اعداد و شمار کے عمل کو مضبوط بنانے اور ڈیٹا پروڈیوسرز اور صارفین کے درمیان اعتماد کو فروغ دینے میں مدد کرے گی بلکہ معلومات کے قابل اعتماد ہونے اور اسکی رسائی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی ۔ بہترین طور پر مرتب کردہ قومی اعداد و شمار کے پھیلاؤ کی پالیسی ثبوت پر مبنی فیصلہ سازی اور موثر منصوبہ بندی کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ، جو کسی بھی ملک کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔