13.8 C
Islamabad
جمعرات, فروری 27, 2025
ہومتازہ ترینپاکستان اور ازبکستان کا تجارتی و اقتصادی تعلقات اور صنعتی تعاون کو...

پاکستان اور ازبکستان کا تجارتی و اقتصادی تعلقات اور صنعتی تعاون کو وسعت دینے، ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کامیابی سے نافذ کرنے، تجارتی حجم 2ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم، وزیراعظم کے دورہ ازبکستان کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ کا اجر اء

- Advertisement -

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):پاکستان اور ازبکستان نے تجارتی و اقتصادی تعلقات اور صنعتی تعاون کو وسعت دیتے ہوئے باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے کے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کو کامیابی سے نافذ کرنے، تجارتی حجم 2ارب ڈالر تک بڑھانے ،خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے بھرپور کاوشیں بروئے کار لائیں گے جبکہ دونوں ممالک نے بین المذاہب اور ثقافتی ہم آہنگی، مذہبی رواداری کے نظریات کو فروغ دینے، اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت اور مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی کو مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیاہے۔

اس امر کا اظہار بدھ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دو روزہ دورہ ازبکستان کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے 25-26 فروری 2025 کو جمہوریہ ازبکستان کے صدرشوکت مرزایوف کی دعوت پر جمہوریہ ازبکستان کا سرکاری دورہ کیا جس کے دوران دونوں رہنمائوں نے دوستی اور اعتماد کے جذبے پر مبنی بات چیت میں تذویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے موجودہ صورتحال اور تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے امکانات اور علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے امور پر گفت و شنید کی۔

- Advertisement -

دونوں رہنمائوں نے جمہوریہ ازبکستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد گزشتہ 33 سالوں کے دوران فروغ پانے والے اعلیٰ سطح کے باہمی تعاون کو سراہا جو دونوں ملکوں کے درمیان آزمودہ دوستی اور گہرے ثقافتی اور روحانی تعلقات پر مبنی ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے خطے میں دونوں ممالک کے بنیادی مفادات کےفروغ اور امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کو نئی سطح تک بڑھانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہ دوطرفہ تعلقات بتدریج فروغ پا رہے ہیں اور جمہوریہ ازبکستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کے قیام سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جس پر 16 جولائی 2021ء اور 4 مارچ 2022ء کو دستخط کیے گئے، میں کہا گیا کہ جمہوریہ ازبکستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان دوستی، مساوات اور باہمی احترام جیسی غیر متزلزل اقدار پر قائم سٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت دیتے رہیں گے۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کے ساتھ ساتھ دونوں ریاستوں کے عوام کے طویل مدتی قومی مفادات کو پورا کرنے والی پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعاون کو جامع طور پر فروغ دینے اور مضبوط کرنے کا پختہ عزم کیا۔ دونوں رہنمائوں نے باقاعدہ سیاسی مذاکرات میں پیشرفت اور توسیع بشمول رسمی اور غیر رسمی سربراہی اجلاسوں کی شکل میں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

اس سلسلے میں انہوں نے 13 اکتوبر 2022ء کو ایشیا میں بات چیت اور اعتماد سازی کے اقدامات پر آستانہ کانفرنس اور 12 نومبر 2024ء کو باکو کاپ 29 سربراہی اجلاس کے فریم ورک کے اندر ہونے والی بات چیت کے نتائج کا مثبت جائزہ لیا اور دونوں فریقوں نے مزید توسیع کی اہمیت پر زور دیا۔بین الپارلیمانی روابط سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے تعاون کی صلاحیت کو مستحکم بڑھانے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کے روایتی تعلقات کو فروغ دینے میں معاون ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے 3-4 نومبر 2024 کو تاشقند میں منعقدہ جمہوریہ ازبکستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تجارتی-اقتصادی اور سائنسی-

تکنیکی تعاون پر مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کے 9ویں اجلاس کے نتائج کو اجاگر کیا۔ازبکستان اور پاکستان تجارتی اور اقتصادی تعلقات اور صنعتی تعاون کو وسعت دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے جس کا مقصد دونوں ممالک کی اقتصادی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور ان کے عوام کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانا ہے اور دیگر امور کے ساتھ ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ (2008) کو کامیابی سے نافذ کرنے کے ذریعے اگلے چار سالوں میں تجارتی حجم کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے جبکہ ایک دوسرے کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور سہولت فراہم کرنا اور بی ٹوبی تعاون کو فروغ دیناہے۔ دونوں رہنمائوں نے علاقائی ہم آہنگی اور اقتصادی ترقی کے ذریعے رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان-افغانستان-پاکستان کوریڈور پورے خطے کے لئے سب سے موثر اور اقتصادی تجارتی راستہ ہے۔

انہوں نے اس روٹ پر کارگو ٹرانسپورٹیشن کے بڑھتے ہوئے حجم پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے ازبکستان-افغانستان-پاکستان (یو اے پی) ریلوے پروجیکٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنمائوں نے ٹرانسپورٹ روٹس کے استعمال کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے خاص طور پر ازبکستان-افغانستان-پاکستان ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ کوریڈور کی ترقی کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ خدمات کی سہولت کے مواقع کو وسیع کرنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس سلسلے میں دونوں رہنمائوں نے ٹرانس افغانستان ریل روڈ کی تعمیر کے منصوبے پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے ازبکستان-افغانستان-پاکستان (مزار شریف تا خرلاچی) ریلوے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اپنی رضامندی کا اعادہ کیا۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ازبکستان اور پاکستان بین الاقوامی میدان میں تعاون کو مستحکم کرتے رہیں گے اور امن کے اقدامات کو فروغ دینے میں ایک دوسرے کو جامع تعاون فراہم کریں گے۔

دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں کثیر جہتی دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا اور بین الاقوامی سطح پر قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سیاسی اور اقتصادی میکانزم کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا جس میں وزارت خارجہ کے درمیان سیاسی مشاورت بھی شامل ہے۔

دونوں فریقوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقوام متحدہ اور اس کے خصوصی اداروں، اسلامی تعاون کی تنظیم، اقتصادی تعاون تنظیم، شنگھائی تعاون تنظیم، غیروابستہ تحریک اور دیگر بین الاقوامی اور علاقائی ڈھانچے کا فریم ورک سمیت دیگر سطح پرروابط مربوط کرنے پر اتفاق کیا۔پیچیدہ بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں دونوں فریقوں نے عالمی مسائل کے حل، پائیدار ترقی کو یقینی بنانے اور دنیا میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے میں اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے کردار کو بڑھانے کی اہمیت پر مشترکہ رائے کا اظہار کیا۔ازبکستان اور پاکستان نے بین الاقوامی اداروں میں مختلف عہدوں کے لیے ایک دوسرے کے امیدوارو پر غور کرنے اوربین الاقوامی قانون کو برقرار رکھنے اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں کو بڑھانے کا عہد کیا۔

پاکستان نے 2025 میں سمرقند میں یونیسکو کی جنرل کانفرنس کے 43ویں اجلاس کے انعقاد کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس کے علاوہ پاکستانی فریق نے ڈبلیو ٹی او میں ازبکستان کے الحاق اور تنظیم میں ازبکستان کے جلد الحاق کے لیے اس کی حمایت سے متعلق ورکنگ گروپس کے اجلاسوں میں اپنی باقاعدہ شرکت کا ذکر کیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دونوں رہنمائوں نے ان کوششوں کی اہمیت پر زور دیا جن کا مقصد افغانستان کو ایک پرامن اور خوشحال ریاست میں تبدیل کرنا ہے جو دہشت گرد گروہوں کا موثر طریقے سے مقابلہ کرتی ہو اور کسی بھی ملک بالخصوص اس کے پڑوسیوں کو لاحق خطرات کو روکتی ہو۔ دونوں رہنمائوں نے اپنے اپنے علاقائی حالات بشمول ان کی بنیادی تشویش اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تمام مسائل کا پرامن حل وسطی اور جنوبی ایشیا دونوں خطوں اور اس سے باہر ترقی اور خوشحالی کا باعث بنے گا۔دونوں فریقوں نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے لیے ان کی منصفانہ جدوجہد کے ساتھ ساتھ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

دونوں فریقین نے بین المذاہب، ثقافتی اور بین النسلی ہم آہنگی، باہمی احترام اور مذہبی رواداری کے نظریات کو فروغ دینے، اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرنے اور مسلم ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنمائوں نے ثقافتی اور انسانی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور دونوں ممالک کے لوگوں کی روحانی قربت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ثقافتی ایام، مشترکہ نمائشوں اور تہواروں کے انعقاد کے ذریعے ہمارے مشترکہ ثقافتی ورثے کو مقبول بنانے کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے تعلیم، سائنس، صحت کی دیکھ بھال، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کھیلوں میں تعاون کو مسلسل بڑھانے کے لیے آمادگی ظاہر کی۔دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ دورے کے دوران ہونے والی بات چیت اور دوطرفہ دستاویزات پر دستخط ازبکستان اور پاکستان کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف اور ازبکستان کے عوام کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور ازبکستان کے رہنما کو جامع تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مناسب وقت پر پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے شکریہ کے ساتھ دعوت قبول کی۔دورے کی تاریخ پر سفارتی ذرائع سے اتفاق کیا جائے گا۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=566705

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں