اسلام آباد۔18اگست (اے پی پی):پاکستان میں مصر کے سفیر ڈاکٹر احاب عبدالحمید نے کہا ہے کہ پاکستان اور مصر کے درمیان دوطرفہ ویزوں میں آسانی سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے اور سیاحت کے شعبے بھی فروغ پائیں گے، مصر اپنے تاریخی ورثے کی وجہ سے عالمی سیاحت کا مرکز بھی ہے اور پاکستان بھی سیاحت کے لئے مقبول ترین ممالک میں سے ایک ہے۔اتوارکو اے پی پی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے میں بتایا کہ پاکستان کے شمالی علاقے قدرتی مناظراور جمالیاتی حسن سے مالا مال ہیں جن میں دنیا کی چھ بلند ترین پہاڑی چوٹیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکردو کے دورے کے دوران انہیں پہلی بار پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملا، سکردو کا سرسبز و شاداب علاقہ دیوسائی عالمی سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ پرکشش علاقہ ہے۔ سفیر نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے درمیان سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لئے نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے جس کے لئے دونوں ممالک کی تاجر برادری کو اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مصر تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں جو کئی جہتوں پر محیط ہیں اور ہمیں اپنی نئی نسل کو اپنے تاریخی ورثے سے روشناس کرانا ہے۔
ڈاکٹر احاب نے کہا کہ دونوں ممالک میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لئے دونوں اطراف کی کاروباری برادری کو وفود کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دوطرفہ تجارت اس کی صلاحیت سے بہت کم ہے اور اسے بڑھانے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لئے پاکستان لک افریقہ پالیسی بہت اہم ہے اور مصر اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مصر عرب ممالک میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور ایتھوپیا اور نائجیریا کے بعد افریقہ کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر کی زیادہ تر آبادی دریائے نیل کی زرخیز پٹی کے ارد گرد مرکوز ہے کیونکہ ملک کا زیادہ تر حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ سفیر نے سیاحت اور ثقافتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔