12.1 C
Islamabad
ہفتہ, مارچ 1, 2025
ہومقومی خبریںپاکستان بیت المال رمضان المبارک میں ملک بھر میں 50 لاکھ سے...

پاکستان بیت المال رمضان المبارک میں ملک بھر میں 50 لاکھ سے زائد افطار باکسز تقسیم کرے گا، ایم ڈی بیت المال شاہین خالد بٹ کا انٹرویو

- Advertisement -

اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):پاکستان بیت المال وزیراعظم کے خصوصی اقدام کے تحت اپنی سب سے بڑی امدادی مہم کے دوران رمضان المبارک میں ملک بھر میں 50 لاکھ سے زائد افطار باکسز تقسیم کرے گا۔ جمعہ کو ’’اے پی پی‘‘ کو ایک خصوصی انٹرویو میں منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال سینیٹر کیپٹن (ر) شاہین خالد بٹ نے کہا کہ وزیراعظم کے خصوصی اقدام کے تحت اس مہم کے دوران ملک کے پسماندہ اور غریب طبقہ کو پاکستان بیت المال ضلع کی سطح پر تیار کھانےکے پیکٹ تقسیم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المال مساجد ، یتیم مراکز ، خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز ، سکولوں اور کھانے کی تقسیم کے لئے دیگر نامزد مقامات کا استعمال کرے گا جبکہ 33 موبائل ٹرک دور دراز علاقوں تک پہنچنے کے لئے مختلف راستوں پر کام کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیت المال کے پاس پہلے ہی ضلعی سطح پر ایک وسیع انفراسٹرکچر موجود ہے اور میری ٹیم نے بروقت اور شفاف ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے اس پوری مہم کو باضابطہ بنا دیا ہے اور میں خود اس کی نگرانی کر رہا ہوں۔ شاہین خالد بٹ نے بحالی اور خود کفالت کے پروگراموں کے ذریعہ لوگوں کو بااختیار بنانے میں محض امداد فراہم کرنے سے ادارہ کے وژن میں ایک بڑی تبدیلی کا خاکہ پیش کیا۔

- Advertisement -

انہوں نے کہا کہ ہماری بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ لوگوں کو امداد پر مستقل انحصار کئے بغیر غریب اور کمزوروں کی مدد کرنا ہے، میرا وژن لوگوں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ ہر ماہ مدد کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کی بحالی کا منصوبہ پہلے ہی جاری ہے جس میں انہیں مہارتوں کی فراہمی اور چھوٹے کاروبار وں میں معاونت پر توجہ دی جارہی ہے، رمضان کے بعد خود انحصاری کی حوصلہ افزائی کے لئے اس پروگرام کا دائرہ ملک بھر میں بڑھایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان بیت المال اپنے بحالی کے منصوبوں میں افراد کو مالی مدد کی بجائے انہیں کاروبار کیلئے مواقع فراہم کرتا ہے جیسا کہ اگر ایک مستحق پھل فروش کی خستہ حال ریڑھی ہے تو اسے کاروبار کو جاری رکھنے کے لئے موٹرسائیکل ریڑھی فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکے۔

انہوں نے بتایا کہ بیت المال کے بڑے منصوبوں میں سے خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز ہیں جہاں ہزاروں خواتین کو سلائی ، بیوٹیشن خدمات اور دستکاری کی تربیت دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے مراکز چھ ماہ کے پیشہ وارانہ تربیتی کورسز پیش کرتے ہیں، ان کی تربیت مکمل کرنے کے بعد ہم خواتین کو سلائی مشینیں یا دیگر ضروری سامان مہیا کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے چھوٹے کاروبار شروع کرنے میں مدد کریں۔انہوں نے مزید بتایا کہ قابل عمل کاروباری منصوبہ رکھنے والی خواتین کو چھوٹے پیمانے پر پروڈکشن یونٹ قائم کرنے کے لئے متعدد مشینیں یا ٹولز دیئے جاتے ہیں، اس سے خواتین نہ صرف اپنا روزگار حاصل کرتی ہیں بلکہ اپنی برادری اور اردگرد کے علاقوں میں روزگار کی فراہمی کا بھی باعث بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم معذور افراد کو معاشی طور پر بہتر بنا کر اسے معاشرہ میں اچھا مقام دلانے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک غلط فہمی ہے کہ معذوری کا مطلب مکمل نااہلی ہے جو بالکل غلط ہے، بہت سے معذور افراد کو اگر صحیح مواقع فراہم کئے جائیں تو وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ایم ڈی بیت المال نے بتایا کہ بحالی پروگرام مختلف کاروباری گرانٹ ، ملازمتوں اور معاون ٹولز کی پیشکش کر رہا ہے جو مختلف افراد کو خود انحصار بناتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے معذور افراد یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ وہ خیرات نہیں چاہتے ہیں ، وہ ملازمتیں چاہتے ہیں، ہم اپنے پروگراموں کے ذریعے ایسے افراد کو ترجیح دے رہے ہیں۔انہوں نے ایک جامع معاشرے کو فروغ دینے کے لئے ہر سطح پر شعور پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جہاں بینکوں ، پولیس سٹیشنوں اور سرکاری دفاتر جیسے عوامی مقامات پر مناسب ریمپ اور معاون سہولیات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم 20 فیصد معذور افراد کو خود انحصار بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ اب بوجھ نہیں بلکہ معاشرے میں فخر کرنے والے معاون ثابت ہوں گے۔بیت المال جدید ترین یتیم خانے چلا رہا ہے جہاں بچے معیاری تعلیم ، پناہ گاہ ، کھانا اور نفسیاتی مدد حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے یتیم خانوں میں بچے روایتی یتیموں کی طرح نظر نہیں آتے ہیں، ان کا اعتماد ، خود اعتمادی اور تعلق کا احساس ہے۔

انہو ں نے کہا کہ میرا وژن ہے کہ جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں تو وہ عام شہریوں کی طرح نظر آئیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یتیم ہونا اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے ، معاشرے کی لعنت نہیں اور معاشرے کو انہیں قبول کرنا چاہئے،ہمارے یتیم خانے ایک معیار زندگی فراہم کرتے ہیں جو کیڈٹ کالج کے ہاسٹلز سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن بیت المال بچوں کے لئے پیشہ وارانہ سکول قائم کرکے اس مسئلہ سے نمٹ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف مفت تعلیم ، وردی اور ایک کھانا مہیا کرتے ہیں بلکہ ہم والدین کو روزانہ کا 100 روپے معاوضہ بھی دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو کام کرنے کی بجائے سکول بھیجنے کی ترغیب دیں۔
انہوں نے نجی شعبے اور مخیر حضرات کو بیت المال کے فلاحی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر شامل ہونے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس ہماری ویب سائٹ پر ایک آن لائن عطیہ پورٹل ہے جہاں مقامی اور غیر ملکی دونوں عطیہ دہندگان کسی بھی کرنسی میں حصہ ڈال سکتے ہیں، ہر ایک پیسہ بغیر کسی انتظامی لاگت کے شفاف طور پر استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ بیت المال کے نظام پر اعتماد کریں خاص طور پر رمضان کے دوران اس کی رسائی کو بڑھانے میں مدد کریں،اگر لوگ ہم پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں تو ہم بہتر منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں اور پاکستان بھر میں مزید زندگیوں کو ترقی دے سکتے ہیں۔انہوں بتایا کہ بیت المال اپنے پورے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے پر کام کر رہا ہے تاکہ خدمت کی فراہمی میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جاسکے، ہم اپنے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کررہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ہر عطیہ اور خدمات کا سراغ لگایا گیا ہے اور اس کا آڈٹ کیا گیا ہے

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=567424

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں