اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی)چیئرمین سینیٹ سینیٹر صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے'مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل چاہتے ہیں' پاکستان سرمایہ کاری کے لئے موزوں ترین ملک ہے' سوئٹزر لینڈ کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کریں یہ بات انہوں نے منگل کو سوئٹزر لینڈ کے پارلیمانی وفد کے …
پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے’ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں’چیئرمین سینیٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 نومبر (اے پی پی)چیئرمین سینیٹ سینیٹر صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے’مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل چاہتے ہیں’ پاکستان سرمایہ کاری کے لئے موزوں ترین ملک ہے’ سوئٹزر لینڈ کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کریں یہ بات انہوں نے منگل کو سوئٹزر لینڈ کے پارلیمانی وفد کے پارلیمنٹ ہاؤس کے دورہ کے دوران ان سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ وفد کی قیادت سوئٹزرلینڈ کی ریاستوں کی کونسل کے صدر جین رینے فرنیئر کر رہے ہیں۔سوئٹزر لینڈ کے پارلیمانی وفد کے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے ان کا استقبال کیا۔ وفد نے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان سوئٹزر لینڈ کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ دو طرفہ تعاون کو کثیر الجہتی شعبوں میں وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سوئٹزر لینڈ ایک دوسرے کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ادارہ جاتی تعاون و پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل کی حمایت جاری رکھیں گے’افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گوادر کے ذریعے خطے کے ساتھ رابطہ کاری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ گوادر پاکستان کو خطے کا تجارتی مرکز بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین ملک ہے’سوئٹزرلینڈ کے سرمایہ کار پاکستان میں کاروباری مواقعوں سے بھر پور فائدہ اٹھائیں۔دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے بین الاقوامی برادری کشمیریوں کو حق خود اداریت دلوانے کیلئے اپنا کردارا دا کرے’ہم مسئلے کا اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن حل چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرنے پر سوئٹزرلینڈ کے وفد کے شکر گزار ہیںاوراْمید ہے اس دورے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ اس موقع پر رہنما سوئس پارلیمانی وفد نے کہا کہ مجھے پاکستان کا دورہ کر کے بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے’ ہمارے لیے پارلیمانی سفارتکاری روابطہ کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم ہے’ ہمارے دورے کا مقصد ہی پارلیمانی روابط اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ ایک دوسرے کے ساتھ کھل کر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں’مسائل کے حل کیلئے مل جل کر کوششیں کی جا سکتی ہیں۔ رہنما سوئس پارلیمانی وفد نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ پارلیمانی، تجارتی و اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے۔چیئرمین سینیٹ نے وفد کو ایوان بالاء کے آئینی اور قانونی کردار، اہمیت اور کام کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والانے کہا کہ پاکستان سوئٹزر لینڈ تعلقات کی تاریخ میں آج نیا باب رقم ہو گیا ہے’سوئٹزر لینڈ کے وفد کا پاکستان کا پہلا دورہ انتہائی خوش آئند ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہم تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے خواہاں ہیں’ادراہ جاتی تعاون اور قانون ساز اداروں کے مابین مستحکم روابط تعلقات کو مزید مستحکم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفود کے تبادلوں اور تجارتی سطح پر روابط کے فروغ کیلئے وسیع گنجائش موجود ہے۔اس موقع پر ملاقات میں حکومت، پارلیمان اور آئین ساز اداروں کے کام کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا’ پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس کو مزید موثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔سلیم مانڈوی والا کے ہمراہ پاکستان سوئٹزر لینڈ دوستی گروپ کے کنونیئر سینٹرفاروق ایچ نائیک اور گروپ کے اراکین بھی موجود تھے۔اس موقع پر فارق ایچ نائیک نے کہا کہ پارلیمانی تعاون کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے میں مدد ملے گی۔








