اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کا عالمی دن پیر 28 جولائی کو منایا گیا، عالمی ادارہ صحت کی سربراہی میں ہر سال یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس موذی مرض کا خاتمہ ہے، ڈبلیو ایچ او نے ترقیاتی اہداف کے تحت 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمہ کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔ رواں عالمی یوم ہیپاٹائٹس کا موضوع …
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کا عالمی دن پیر کو منایا گیا
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کا عالمی دن پیر 28 جولائی کو منایا گیا، عالمی ادارہ صحت کی سربراہی میں ہر سال یہ دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس موذی مرض کا خاتمہ ہے، ڈبلیو ایچ او نے ترقیاتی اہداف کے تحت 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمہ کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی ہے۔ رواں عالمی یوم ہیپاٹائٹس کا موضوع ’’ آئیں، اس کا خاتمہ کریں‘‘ منتخب کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 28 جولائی نوبل انعام یافتہ سائنسداں ڈاکٹر باروچ بُلمبرگ کا یوم پیدائش ہے جنہوں نے ہیپاٹائٹس بی وائرس کو دریافت کرکے اس کی تشخیص اور ویکسین تیار کرکے اس کا علاج ممکن بنایا تھا۔
ہیپاٹائٹس ایک موذی وائرس ہے جس کی کئی اقسام میں ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور ای وغیرہ شامل ہیں۔ ہیپاٹائٹس ایک ایسا خطرناک وائرل مرض ہے جو انسان کے جگر میں انفیکشن پیدا کرتا ہے اور بر وقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے یہ جگر کے سرطان (کینسر )کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ہیپاٹائٹس سی، ڈی اور ای کے پھیلنے کی وجوہات مشترک ہیں تاہم ہیپاٹائٹس سی اور بی انتہائی سنگین وائرس ہے کیونکہ ایک طویل عرصہ تک مریض میں بیماری کی علامات کا پتہ نہیں چلتا جس کے سبب یہ جگر کے سرطان کا سبب بن سکتے ہیں۔
مزید برآں ہیپاٹائٹس اے اور ای ان علاقوں میں زیادہ پھیلتا ہے جہاں پینے کے صاف پانی کی قلت ہوتی ہے۔ہیپاٹائٹس بی کا شکار عام طور پر بچے ہوتے ہیں اور یہ وائرس ان پسماندہ علاقوں میں زیادہ پھیلتا ہے جہاں وسیع پیمانے پر بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات نہیں لگائے جاتے اور ان کی ویکسینیشن نہیں ہوتی ۔واضح رہے کہ ہیپاٹائٹس کی علامات میں تھکاوٹ، وزن کم ہونا، بھوک کا نہ لگنا، پیٹ میں اکثر درد رہنا، بخار، قے، جلد اور آنکھیں زرد ہونا وغیرہ شامل ہیں۔یہ مرض ان علاقوں میں بھی تیزی سے پھیلتا ہے جہاں صفائی کا فقدان پایا جاتا ہے۔
ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ ایسے مریض ہیں جو اپنے مرض کے بارے میں بے خبر ہوتے ہیں جس کے سبب یہ وائرس دیگر افراد میں منتقل ہو جاتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق آلودہ پانی اور ناقص خوراک کا استعمال ہیپاٹائٹس اے اور ای کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی، سی اور ڈی خون کی منتقلی جیسا کہ استعمال شدہ سرنجز، دانت نکالنے کے آلودہ آلات کا استعمال اور آلودہ شیونگ بلیڈ کے استعمال وغیرہ سے پھیلتے ہیں۔ یہ وائرس حاملہ خاتون سے پیٹ میں موجود بچے میں بھی منتقل ہو سکتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق عالمی سطح پر اموات کی 8 ویں بڑی وجہ بھی ہیپاٹائٹس ہی ہے۔
ہیپاٹائٹس کے مرض پر قابو پانے کے لیے قومی و عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ عالمی یوم ہیپاٹائٹس کے موقع پر سرکاری، غیر سرکاری، نجی، فلاحی اور طبی اداروں کے زیر اہتمام مختلف پروگرامز اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا تاکہ ہیپاٹائٹس کے پھیلائو کو روکنے کے حوالہ سے عام آدمی میں شعور اجاگر کیا جا سکے ۔









