اسلام آباد۔23اگست (اے پی پی):پاکستان سپورٹس بورڈ ( پی ایس بی) کی درخواست پر نیشنل بینک آف پاکستان ( این بی پی) نے معطل پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن ( پی ڈبلیو ایل ایف) کا بینک اکاؤنٹ بلاک کردیا ہے جس سے سپورٹس گورننس میں خلاف ورزیوں کے خلاف فیصلہ کن کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا ہے۔پی ایس بی نے واضح کیا کہ یہ کارروائی کھیلوں میں بے ضابطگیوں، بدعنوانی یا پاکستان کے نام کے غلط استعمال کو برداشت نہ کرنے کے حوالہ سے ایک مضبوط پیغام اور مستحکم عزم کی عکاس ہے۔
پی ایس بی کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ڈائریکٹر جنرل محمد یاسر پیرزادہ کے ایجنڈے کے مطابق ہے تاکہ پاکستان بھر میں کھیلوں کی تمام تنظیموں میں شفافیت، احتساب اور گڈ گورننس کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کی سپورٹس پالیسی بدعنوانی اور قانون کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پر مبنی ہے اور جہاں بھی بے ضابطگیاں پائی جائیں گی اسی طرح کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ڈی جی پی ایس بی نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام کسی بھی ادارے کو ملک کے جھنڈے تلے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ قدم سپورٹس بورڈ کی جانب سے نیشنل بینک کو مطلع کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 42 کے تحت پی ڈبلیو ایل ایف قومی قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی میں کام کر رہی ہے۔ مزید برآں فیڈریشن بین الاقوامی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے آئین کی تعمیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی سرکاری ویب سائٹ پی بھی پی ڈبلیو ایل ایف کی حیثیت کو عارضی طور پر معطل شو کرتی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رکن فیڈریشن نے آئی ڈبلیو ایف آئین کے قاعدہ 8 میں بیان کردہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے عارضی طور پر اپنے رکنیت کے حقوق کھو دیے ہیں ۔
پاکستان سپورٹس بورڈ نے مزید کہا کہ پی ڈبلیو ایل ایف کو 6 جولائی 2022 کو منعقدہ 25ویں پی ایس بی بورڈ میٹنگ کے دوران معطل کر دیا گیا تھا جو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقرر کیے گئے مندوب کی رپورٹ کی بنیاد پر تھا۔معطلی اس کے کام کاج میں مبینہ بے ضابطگیوں، بدعنوان طریقوں اور اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے عائد کی گئی تھی جبکہ پی ڈبلیو ایل ایف کے معطل عہدیداروں کے بارے میں تفصیلی انکوائری ابھی جاری ہے۔
مزید برآں بین الاقوامی ٹیسٹنگ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق10 مارچ 2025 کو اس بات کی تصدیق کی گئی کہ فیڈریشن کے اعلیٰ عہدیداروں نے اینٹی ڈوپنگ اصول کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔
پی ایس بی نے نشاندہی کی ہے کہ صرف کھیلوں کی تنظیمیں سپورٹس بورڈ سے تسلیم شدہ یا اس سے وابستہ ہیں اور کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 42 کے تحت شامل ہیں وہ پاکستان میں کسی کھیل کو ریگولیٹ کرنے، ملک کا نام استعمال کرنے یا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کی حقدار ہیں چونکہ پی ڈبلیو ایل ایف نے ان قانونی اور ریگولیٹری تقاضوں کو پورا نہیں کیا جس کی بنیاد پر پاکستان سپورٹس بورڈ نے نیشنل بینک کو باضابطہ طور پر بینک اکاؤنٹ (اکاؤنٹ نمبر 2200026441 سمن آباد برانچ، لاہور، جو اب علامہ اقبال ٹاؤن، لاہور میں شفٹ ہے)معطل کرنے کی درخواست کی ۔پی ایس بی کی درخواست کے بعد این بی پی کے آپریشنز مینجر کی طرف سے ایک ای میل نے تصدیق کی کہ اکاؤنٹ کو فوری طور پر ڈیبٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔