اسلام آباد۔10اگست (اے پی پی):پاکستان میں جذام کے مریضوں کی مسیحا ڈاکٹر رتھ فاؤ کی برسی اتوار 10 اگست کو منائی گئی۔طب کے شعبے سے وابستہ پاکستان کی مدر ٹریسا ڈاکٹر رُتھ فاؤ 8 مارچ 1960 میں پہلی بار پاکستان آئیں اس وقت جب پاکستان میں کوڑھ کے مریض کو اچھوت سمجھا جاتا تھا ایسے وقت میں جرمنی سے تعلق رکھنے والی اس خاتون ڈاکٹر نے جذام کے پاکستان سے خاتمے کیلئے اپنی تمام زندگی وقف کر دی۔جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ نے نیشنل لیپریسی کنٹرول پروگرام کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کراچی کے علاقے صدر میں ’میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر‘ کی بنیاد رکھی اور اپنی تمام تر محبت ان مریضوں کو دی جنہیں ان کے اپنے بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کی شب و روز کوششوں کے نتیجے میں عالمی ادارہ صحت نے 1996 میں پاکستان کو کوڑھ کے مرض سے پاک ملک قرار دے دیا۔ڈاکٹر رتھ فاؤ کو حکومت پاکستان کی جانب سے ستارہ قائد اعظم اور ستارہ ہلال ایوارڈ سے نوازا گیا۔
جرمن ڈاکٹر رتھ فاؤ نے انسانیت کی خدمت کیلئے اپنی زندگی کے 57 برس وقف کئے۔ڈاکٹر رتھ فاؤ کا انتقال 10 اگست 2017ئ کراچی میں ہوا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک اور سول اسپتال کراچی کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ کی برسی کے موقع پر ان کی خدمات کو بھر پور انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔