21.6 C
Islamabad
جمعرات, اپریل 3, 2025
ہومخصوصی فیچرزپاکستان میں زیتون کی کاشت کا رجحان: پوٹھوار انتہائی موزوں خطہ

پاکستان میں زیتون کی کاشت کا رجحان: پوٹھوار انتہائی موزوں خطہ

- Advertisement -

خصوصی رپورٹ: ساجد فاروق

پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی کے مد نظر غذائی ضروریات کے حوالے سے درپیش ایک اہم مسئلہ خوردنی تیل کی طلب میں متواتر اضافہ ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اسے ہر سال اربوں روپے کا خوردنی تیل درآمد کرنا پڑتا ہے ،ملک میں اپنی ضرورت کا خوردنی تیل صرف 32 فیصد پیدا ہورہا ہے جبکہ 68 فیصد درآمد کیا جاتاہے، خوردنی تیل کی درآمد پر انحصار ختم کرنے اور ملک میں پیداوار بڑھانے کے لئے زیتون سمیت دیگر تیل دار اجناس کی کاشت میں اضافے کی اشد ضرورت پائی جاتی ہے، دنیا بھر میں زیتون کا زیر کاشت رقبہ سالانہ ڈیڑھ فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے ۔اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق سال 2018 میں عالمی سطح پر زیتون کا زیرکاشت رقبہ ایک کروڑ پانچ لاکھ تیرہ ہزار تین سو بیس ہیکٹر تھا جو سال 2000کے مقابلہ میں 26فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2000کے مقابلہ میں 2018کے دوران زیتون کی پیداوار میں35فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں زیتون کی کاشت ، پھل کی پیداوار اور اس سے حاصل ہونے والے تیل کے حوالے سے سپین سرفہرست ہے۔

- Advertisement -

زرعی ماہرین کے مطابق زیتون کی کامیاب کاشت کیلئے ایسی آب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے جہاں گرمیوں میں موسم خشک اور سردیوں میں درجہ حرارت کچھ عرصہ کیلئے 7 ڈگری سے کم ہو اور بارشیں کم ہوتی ہوں ، زیتون کا درخت سدا بہار ہے اور وہ علاقے جن کا درجہ حرارت 20 تا 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہو وہاں اس کی زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے ، زیتون کے پودے تپتے صحرا سے لیکر برف پوش پہاڑی چوٹیوں تک اگائے جا سکتے ہیں۔ زیتون کے درخت پر پھل 3سے 4 سال بعد آنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ تجارتی پیمانے پر پیداوار چھٹے سال ملنا شروع ہوتی ہے ، اس کی اچھی اقسام کی اوسط پیداوار 50 سے60 من فی ایکڑ تک ریکارڈ کی گئی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیتون کی کاشت دوسری فصلوں کی کاشت کو بھی متاثر نہیں کرتی۔

وزیر اعظم عمران خان کاکہنا ہے کہ موجودہ حکومت زیتون کا انقلاب لیکر آ رہی ہے، صرف زیتون کی کاشت پر ہی توجہ دے دیں تو نہ صرف درآمد پر اٹھنے والے اربوں روپیہ بچا سکتا ہے بلکہ ہم اپنی ضرورت سے زائد زیتون کو بر آمد کر اربوں ڈالرز کما بھی سکتے ہیں۔ اس حوالے سے حالیہ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں مشکل یہ ہے کہ ہم خوردنی تیل درآمد کرتے ہیں ، ہم اس وقت 3 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں گھی مہنگا ہو جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں زیتون کی کاشت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ دریائے سندھ کے مغربی علاقوں میں بارش کم ہوتی ہے، فصلیں نہیں اگتیں، اس لئے یہ زیتون کی کاشت کیلئے بہت مفید جگہ ہے۔ اس کے علاوہ بلین ٹرین منصوبہ میں بھی زیتون کی کاشت پر بھرپور توجہ دیں گے،۔

اس وقت ملک کے مختلف علاقوں میں 27ہزار ہیکٹر رقبہ پر زیتون کاشت کیا گیا ہے تاہم زیتون کے زیر کاشت رقبہ کو 70ہزار ہیکٹر سے بڑھایا جائے گا، گذشتہ سال کاشتکاروں کو زیتون کی شجرکاری کیلئے 5لاکھ 50ہزار پودے فراہم کئے گئے تھے، 23-2022تک مزید 50ہزار ہیکٹر رقبہ پر زیتون کے پودے کاشت کئے جائیں گے اور رواں شجرکاری مہم کے دوران زیتون کے 23 لاکھ نئے پودے لگائے جائیں گے۔ زرعی ماہرین نے ملک کے مختلف علاقوں کی نشاندہی کی ہے جہاں پر زیتون کی کاروباری بنیادوں پر کاشت کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ زیتون کی شجرکاری کے فروغ کیلئے پبلک۔ پرائیویٹ شراکت داری کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں زیتون کے پودوں کی دس نرسریاں بھی قائم کی گئی ہیں اور موسم خزاں کی حالیہ شجر کاری مہم کے دوران ان نرسریوں سے ایک ملین پودے خریدے جائیں گے جو فیڈرل سیڈ رجسٹریشن اینڈ سرٹیفیکیشن اتھارٹی سے باقاعدہ منظور شدہ ہوں گے، ملک میں زیتون کی پیداوار مسلسل اضافہ کا رجحان ہے اور توقع ہے کہ جاری سیزن میں قومی پیداوار 11ہزار ٹن سے تجاوز کر جائے گی جس سے زیتون کے تیل کی پیداوار بھی بڑھے گی۔

اگر پاکستان کے مختلف علاقوں کے موسمی حالات اور نوعیت کو دیکھا جائے تو دریائے سندھ کے اردگرد کے علاقے ،خیبر پختونخواہ اور اسلام آباد زیتون کی کاشت کیلئے بہترین ہیں جبکہ خطہ پوٹھوار کو زیتون کی کاشت کے لئے انتہائی موزوں علاقہ سمجھا جاتا ہے ۔
رواں سال خطہ پوٹھوار زیتون کی کاشت کی حوصلہ افزائی کے لئے کاشتکاروں کو زیتون کے 12لاکھ 10ہزار پودے مفت فراہم کئے گئے ہیں اور انہیں زیتون کا تیل کشید کرنے کی سہولت بھی مہیا کردی گئی جبکہ خطہ پوٹھوار میں زیتون اور دیگر ہائی ویلیو کراپس کی کاشت کو مزید کامیاب بنانے کیلئے مربوط حکمت عملی سے کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی کا کہنا ہے کہ ملکی خوردنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے زیتون کے باغبانوں کو مزید سہولیات کی فراہمی کوبھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ وہ ملکی خوردنی تیل کی پیداوارکو بڑھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ایک اجلاس میں انہوں نے کہا کہ زرعی سائنسدانوں کو زیتون اور دیگر ہائی ویلیوفصلات کی نئی اقسام کو متعارف کرانے کیلئے تحقیقی عمل کو مزید تیز کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ خطہ پوٹھوار مختلف پھلوں کی کاشت کیلئے انتہائی موزوں ہے اور اس حوالہ سے کاشتکاروں کی مزید تکنیکی رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان زرعی تحقیقی کونسل (پی اے آرسی) ملک کے مختلف علاقوں میں زیتون کی پیداوار بڑھانے اور کم لاگت پر مبنی کاشتکاری کے فروغ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں متنوع منصوبہ پر کام جاری ہے۔اس ضمن میں پاکستان زرعی تحقیقی کونسل (پی اے آر سی) کے نیشنل پراجیکٹ ڈائریکٹر برائے زیتون ڈاکٹر محمد طارق کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور ملک میں ایسی وافر زمین موجود ہے جہاں پر زیتون کاشت کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی زیتون کی پیوند کاری کرکے بھی پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ وفاقی حکومت کا ایک دانشمدانہ فیصلہ ہے کہ ملک میں زیتون کی کاشت کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے ، اس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو گی بلکہ دیہی معیشت کو بہتر بنایا جا سکے گا،زیتون کی کاشت سے لوگوں کو بہت مواقع ملیں گے اور خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین کو زیتون کی ویلیو ایڈیشن کے عمل میں شامل کرکے ان کیلئے روزگار کے مواقع بھی بڑھائے جا سکتے ہیں۔

ملک میں زیتون کی کاشت کے فروع کے لیے حکومت کی سطح پر مساعی اور اقدامات کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ بھی اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں النور زرعی فارمز کلرکہار, چکوال کے جنرل منیجر محمد عزیر ملک نے خطہ پوٹھوار میں زیتون کی کاشت کے بارے میں کہا کہ ہمارا فارم 200 ایکڑ پر مشتمل ہے اور اس میں 40 سے 50 ایکڑ رقبے پر زیتون کاشت کی گئی ہے، خطہ پوٹھوہار میں حکومت کے تعاون سے اس فار م کو ہم آگے بڑھا رہے ہیں، یہاں پر زیتون کے پلانٹس کی مجموعی تعداد تقریباً سات ہزار کے ہے اور ان میں ایک سال سے لے کر پانچ سال تک کے پودے شامل ہیں۔”اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوتھے اور پانچویں سال کے زیتون کے پودوں سے پیداوار شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم زیتون کی کاشت کو بہت زیادہ ترجیح دے رہے ہیں، پاکستان میں زیتون کی کاشت کا منصوبہ انتہائی خوش آئند ہے، اس سے ملک کے کافی زرمبادلہ کی بچت کی جا سکتی ہے کیونکہ ہم ملک کے اندر زیتون کاشت کرکے خوردنی تیل کی پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطہ پوٹھوہار کے علاوہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں زیتون کی کاشت کو فروغ دینا چاہئے، زیتون کی کاشت کیلئے بہت زیادہ زرخیز زمین کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور عام زمین پر بھی زیتون کی کاشت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری فصلوں کی نسبت زیتون سے طویل عرصہ تک پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، اگر ان کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تو سو سال سے اوپر تک ان سے پیداوار لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو زیتون کی کاشت پر توجہ دینی چاہئے ، اس سے نہ صرف وہ اپنے کاروبار کو فروغ دے سکتے ہیں بلکہ ملک کو بھی اس سے فائدہ ہو گا۔

پنجاب میں خطہ پوٹھوار سمیت دیگر علاقوں کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان، میں زیتون کی وسیع رقبہ پرکاشت کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی زیتون کی پیداوار کی بہت گنجائش موجود ہے۔زیتون کی کاشت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں پراسیسنگ پلانٹس کے قیام پر بھی توجہ دی جا رہی ہے اور پنجاب و بلوچستان کی حکومتوں نے پہلے ہی مختلف علاقوں میں تین پلانٹس قائم کر دیئے ہیں جبکہ نجی شعبہ بھی اس حوالہ سے سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے اس کے علاوہ حکومت بھی اس کی بھر پور حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ زیتون کی پیداوار اور اس کی کشید کے عمل کو جدید بنیادوں پر فروغ دیا جاسکے۔زرعی و اقتصادی ماہرین توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت میں اضافے کے رجحان اور خصوصی اقدامات کی بدولت مستقبل میں مقامی طلب پوری ہونے کے علاوہ اضافی پیداوار کے زریعے قیمتی زرمبادلہ نہ صرف بچایا بلکہ کمایا بھی جاسکے گا۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=242990

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں