اسلام آباد ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سبسڈیزسے وہ لوگ استفادہ کررہے ہیں جو پہلے ہی طاقتور ہیں، بجلی کی طرح گیس کے شعبہ کا گردشی قرضہ بھی بڑھ رہا ہے، درآمدی اور ملک کے اندر پیدا ہونے والی گیس کی قیمت میں بہت بڑا فرق ہے، درآمدی گیس موجودہ قیمت پر فراہم کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، آئندہ سردیوں …
پاکستان میں سبسڈیزسے وہ لوگ استفادہ کررہے ہیں جو پہلے ہی طاقتور ہیں، وزیراعظم عمران خان کا پٹرولیم ڈویژن کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سبسڈیزسے وہ لوگ استفادہ کررہے ہیں جو پہلے ہی طاقتور ہیں، بجلی کی طرح گیس کے شعبہ کا گردشی قرضہ بھی بڑھ رہا ہے، درآمدی اور ملک کے اندر پیدا ہونے والی گیس کی قیمت میں بہت بڑا فرق ہے، درآمدی گیس موجودہ قیمت پر فراہم کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، آئندہ سردیوں میں بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے، پچھلے 30 سال میں ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ، ماضی میں بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے ہماری صنعتوں پر بوجھ پڑا، ملکی مسائل کے حل کےلئے بحث ومباحثہ ہونا چاہئے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں پٹرولیم ڈویژن کے زیر اہتمام گیس کی طلب اور رسد سے متعلق ”پاکستان میں گیس کی ارزاں فراہمی، استحکام اور سکیورٹی“کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سبسڈیز دینے کا مقصد غریب عوام کےلئے آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ ان کو سستی سہولت دستیاب ہو، دوسرے ان علاقوں کےلئے سبسڈی دی جاتی ہے جو ترقی میں پیچھے رہ گئے ہیں تاکہ فی کس آمدنی اورجی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہو اور ہم قرضے واپس کریں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سبسڈیزسے وہ لوگ استفادہ کررہے ہیں جو پہلے ہی طاقتور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ ہم نے ماضی میں اس طرح کی بحث ہی نہیں کہ ہمیں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کےلئے کیا کرنا چاہئے، پہلے فیصلے ہوجاتے تو آج مشکل صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایل پی جی غریب لوگ استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی پیداواری لاگت زیادہ ہے، ملک میں 27 فیصد لوگوں کو پائپ لائنوں سے گیس ملتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ آج ہماری انڈسٹری کو مشکل حالات کا سامنا ہے، سردیوں میں ہمیں گیس کے بڑے بحران کا سامنا ہوتا ہے، سبسڈی دینے کا مقصد غریب عوام کےلئے آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم آئی پی پیزکے شکر گزار ہیں جنہوں نے پرانے معاہدوں پر نظر ثانی کرکے نئے معاہدے کئے ہیں، آئندہ ہفتے اس سلسلے میں ہم تفصیلات سے آگاہ کریں گے کہ اس سے کتنی بچت ہوئی ہے اور کتنا فائدہ ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والی گیس کے ذخائر کم ہورہے ہیں اس صورتحال سے کیسے نمٹیں، گیس کی قلت کی وجہ سے سردیوں میں بحران پیدا ہوتا ہے، درآمدی گیس اورملک کے اندر پیدا ہونے والی گیس کی قیمت میں بڑا فرق ہے، اس سیمینار کے دوران ہمیں ملکی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے صورتحال کا ادراک کرنا ہوگا اور تجاویز پیش کرنا ہوںگی، پاکستان میں پن بجلی کی پیداوار کی بڑی صلاحیت موجود ہے لیکن ماضی میں اس سے فائدہ اٹھانے کا کسی نے نہیں سوچا، بدقسمتی سے یہاں الیکشن کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کی جاتی رہی ہے، پچھلے 30 سال میں اس سلسلے میں حکومتوں نے کچھ نہیں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گیس کی طلب اور رسد میں بہت زیادہ فرق ہے جس کی وجہ سے آئندہ سردیوں میں بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے، درآمدی گیس موجودہ قیمت پر فراہم کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں 17 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرکے 14 روپے فی یونٹ فروخت کررہے ہیں جس کی وجہ سے گردشی قرضہ بڑھ رہا ہے ، یہی حالت گیس کے شعبہ کی بھی ہے اور اس میں بھی گردشی قرضے میں اضافہ ہورہا ہے، سیمینار میں خیبرپختونخوا اورسندھ کے نمائندوں نے اپنا اپنا موقف پیش کیا ہے ، ہمیں قومی مفاد کو ترجیح دینی ہے، وفاق اتنا ہی پیسہ صوبوں کو بھیج سکتا ہے جتنا ٹیکس جمع ہوتا ہے۔ایگزون کی ڈرلنگ سے بڑی توقع تھی لیکن وہاں سے گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہوئے توقع کرتا ہوں کہ سیمینارمیں اتفاق رائے سے آئندہ کا لائحہ عمل تیارکرنے میں مدد ملے گی، پنجاب میں گیس کی پیداوار کم ہے اس لئے اسے گیس کے مسئلے کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح ان کی قیادت جدوجہد سے اوپر آئی ہے اور کمیونسٹ پارٹی کا سسٹم میرٹ پر مبنی ہے ، چین میں طویل المدت منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو خط غربت سے نکالا ہے اور اب وہ غریب علاقوں کی ترقی پر توجہ دے رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ توانائی سے متعلق ماضی میں کبھی بحث ومباحثہ نہیں ہوا، توانائی کے مسائل کو سامنے رکھ کر بحث ومباحثہ کرنا ہوگا،یہ مباحثہ توانائی کے مسائل کے حل کےلئے روڈ میپ فراہم کرے گا، خواہش ہے کہ ملکی مسائل پر بحث ومباحثہ ہونا چاہئے۔








