26.3 C
Islamabad
ہفتہ, اگست 30, 2025
ہومتجارتی خبریںپاکستان میں کیلا کی پیداوار مالی سال 25-2024 میں 3 لاکھ 17...

پاکستان میں کیلا کی پیداوار مالی سال 25-2024 میں 3 لاکھ 17 ہزار ٹن تک کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی

- Advertisement -

اسلام آباد۔30اگست (اے پی پی):پاکستان میں کیلے کی پیداوار ایک ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے، گزشتہ 15 سال میں کیلے کی قومی پیداوار دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ کے بعد گزشتہ مالی سال 25-2024 میں ریکارڈ 3 لاکھ 17 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب پاکستان بیورو آف اسٹیٹِسٹکس (پی بی ایس)کے اعداد و شمار کے مطابق11- 2010 میں کیلا کی پیداوار صرف 1 لاکھ 39 ہزار ٹن تھی لیکن مسلسل اضافہ خاص طور پر گزشتہ پانچ برسوں میں اس پھل کو پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فصل بنا چکا ہے۔

سب سے نمایاں اضافہ سال 21- 2020 سے شروع ہوا جب پیداوار 1 لاکھ 42 ہزار ٹن سے بڑھ کر22- 2021 میں 2 لاکھ 16 ہزار ٹن ہوگئی اور محض ایک برس میں 50 فیصد سے زیادہ کا اضافہ تھا۔ اس کے بعد پیداوار میں اضافہ کا سلسلہ جاری رہا اور 23-2022 میں 2 لاکھ 92 ہزار ٹن، 24-2023 میں 3 لاکھ 11 ہزار ٹن تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ مالی سال 25-2024 میں تخمینے کے مطابق ریکارڈ 3 لاکھ 17 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔پیداوار میں یہ مستقل اضافہ پاکستان کی پھلوں کی کاشت میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ کاشتکار بڑھتی ہوئی مارکیٹ طلب اور بہتر منافع کے باعث تیزی سے کیلا کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

- Advertisement -

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبلز ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ کیلا کی بڑھتی ہوئی پیداوار اس کی برآمدی صلاحیت کو نمایاں کرتی ہے تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ 14 ارب ڈالر کی عالمی کیلا برآمدی منڈی میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ موجودہ برآمدات محض 2 کروڑ 74 لاکھ ڈالر تک محدود ہیں۔وحید احمد نے ایک جامع کیلا ویلیو چین ماڈل بنانے کی ضرورت پر زور دیا جو کاشت، پروسیسنگ، پیکجنگ اور ڈسٹری بیوشن کے تمام مراحل پر مشتمل ہو۔ ان کے مطابق ایسا نظام نہ صرف معیار کو بہتر بنائے گا اور کٹائی کے بعد کے نقصانات کو کم کرے گا بلکہ کسانوں کو بہتر آمدنی اور برآمدات میں اضافہ بھی فراہم کرے گا۔

انہوں نے بڑے پیمانے پر کارپوریٹ فارم قائم کرنے پر زور دیا تاکہ اعلیٰ پیداوار دینے والے، پریمیم معیار کے برآمدی کیلے پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جدید پیک ہاؤسز کا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ کیلا صاف کرنے، چھانٹنے، گریڈنگ، پیک کرنے، ذخیرہ کرنے اور برآمد کرنے کے تمام مراحل بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو سکیں۔ ان کے مطابق یہ سہولیات فارم اور مارکیٹ کے درمیان اہم کڑی کا کام کرتی ہیں اور پھل کو تازہ اور قابلِ برآمد رکھتی ہیں۔وحید احمد کے مطابق جدید ٹشو کلچر تکنیکوں کے ذریعے مقبول کیلا اقسام کی افزائش سے بیماری سے پاک اور یکساں پودوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ طریقے کسانوں کو زیادہ پیداوار دینے والی اقسام جیسے کیونڈش اپنانے میں مدد دیں گے، جس سے پیداوار میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کے کیلے عالمی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی بن سکیں گے۔

سندھ کے کیلا کاشتکار، برآمدکنندہ اور پروسیسر جنید حیدر شاہ نے بھی نئی کیلا اقسام سے آنے والی معاشی تبدیلی کو اجاگر کیا۔ ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سات برس قبل کسانوں کی فی ایکڑ آمدنی محض ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کے درمیان تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً پانچ لاکھ روپے تک جا پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی اقسام فنگس کے خلاف مزاحمت رکھتی ہیں، ان کی شیلف لائف طویل ہے اور یہ روایتی اقسام کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع بخش ہیں۔ ان کے مطابق کیلا اب آم کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش فصل بن چکا ہے،

کیونکہ برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ملکی و غیر ملکی منڈیوں میں طلب اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید اقسام کی پیداوار پرانی اقسام سے کہیں زیادہ ہے، جن میں سے کچھ 50 سے 60 برس پرانی ہیں اور اب مسابقت کے قابل نہیں رہیں۔ ان کے مطابق کیلے کی فصل اب سال بھر دستیاب ہوتی ہے، جس کی پہلی پیداوار محض 18 ماہ میں آ جاتی ہے اور اس کے بعد مسلسل پھل آتا رہتا ہے، اگرچہ سردیوں میں پیداوار کچھ کم ہو جاتی ہے۔ یہ خصوصیت کیلا کاشت کو ان کسانوں کے لیے خاص طور پر پرکشش بناتی ہے جو مستقل آمدنی کے ذرائع چاہتے ہیں۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں