26 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںپاکستان میں گندم کی قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے ،وفاقی وزیر...

پاکستان میں گندم کی قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے ،وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

- Advertisement -

اسلام آباد۔28اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور گندم کی منڈی کے استحکام کے ذریعے غذائی خود کفالت کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر کی زیر صدارت جمعرات کو یہاں ویٹ بورڈ کا 8 واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک میں گندم کی طلب و رسد کی صورتحال اور ربیع سیزن 26۔2025 کے لیے اہم زرعی اجناس کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملک میں گندم کی دستیابی 33.47 ملین میٹرک ٹن ہے جبکہ قومی ضرورت 33.58 ملین میٹرک ٹن ہے۔ اس طرح صرف 0.11 ملین میٹرک ٹن کا معمولی فرق سامنے آتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمی نہایت معمولی ہے اور ملک میں گندم کے ذخائر کے حوالے سے کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔

- Advertisement -

وفاقی وزیر نے دوٹوک اعلان کیا کہ موجودہ حالات میں پاکستان گندم درآمد نہیں کرے گا کیونکہ موجودہ ذخائر ملکی قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح مقامی کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہے، نہ کہ منڈیوں یا بیوپاریوں کا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوریا اور دیگر زرعی اجناس کی وافر فراہمی آئندہ ربیع سیزن کے لیے یقینی بنا دی گئی ہے تاکہ کاشتکاروں کو فصل بونے میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ عالمی سطح پر کھادوں کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے ملک میں کھادوں کی قیمتوں کو سختی سے کنٹرول میں رکھا ہے تاکہ پیداوار کی لاگت کسانوں کی دسترس میں رہے۔

رانا تنویر حسین نے متنبہ کیا کہ صوبائی سطح پر کسی بھی قسم کی کڑی اور غیر ضروری پالیسی سازی، بالخصوص پنجاب میں، منڈی میں خوف و ہراس پھیلانے اور صورتحال کو بگاڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات قومی سطح پر زرعی پالیسیوں کے نفاذ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین بہتر ہم آہنگی پر زور دیا تاکہ پالیسیوں کا مؤثر نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ملک میں پائیدار غذائی تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ فی ایکڑ گندم کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے اور کاشتکاری کی لاگت کم کی جائے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی، اجناس کے مؤثر استعمال اور کسانوں کی معاونت ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں وقتی اقدامات کے بجائے پائیدار حل پر توجہ دینی ہو گی تاکہ کسانوں کو بااختیار بنا کر گندم کی پیداوار میں خودکفالت حاصل کی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق صوبوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور عوام کو گندم کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں