اسلام آباد/لاہور۔27جون (اے پی پی):پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (پی ڈبلیو ایل ایف) کی عبوری کمیٹی نے وفاقی حکومت، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے معطل کھلاڑیوں اور سابق عہدیداروں سے فوری وصولیاں کر کے بین الاقوامی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (آئی ڈبلیو ایف) کو 30 ہزار امریکی ڈالر سے زائد کے جرمانے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔ …
پاکستان ویٹ لفٹنگ میں ڈوپنگ پر سزا اور جرمانہ : عبوری کمیٹی کا جرمانوں کی وصولی اور ذمہ داران کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے اعلیٰ حکام کو خط

مزید خبریں
اسلام آباد/لاہور۔27جون (اے پی پی):پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (پی ڈبلیو ایل ایف) کی عبوری کمیٹی نے وفاقی حکومت، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے معطل کھلاڑیوں اور سابق عہدیداروں سے فوری وصولیاں کر کے بین الاقوامی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (آئی ڈبلیو ایف) کو 30 ہزار امریکی ڈالر سے زائد کے جرمانے کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
جرمانہ ادا نہ ہونے کی صورت میں پاکستانی ویٹ لفٹرز جاپان میں ہونے والے 20ویں ایشین گیمز 2026 اور پاکستان میں مجوزہ سیف گیمز 2027 میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔اینٹی ڈوپنگ قوانین کی منظم خلاف ورزیوں پر عالمی ادارے نے پاکستان ویٹ لفٹنگ کو معطل کر رکھا ہے۔ جب تک 30 ہزار ڈالر سے زائد کا جرمانہ ادا نہیں ہوتا، یہ معطلی برقرار رہے گی جس سے ملک کے صاف ستھرے کھلاڑیوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
سال 2021 میں طلحہ طالب اور ابوبکر غنی پر 5,5 ہزار ڈالر جرمانہ لگایا گیا تھا جو اب عدم ادائیگی کی وجہ سے 30 ہزار سے تجاوز کر چکا ہے۔ مزید برآں، کورٹس آف آربرٹیشن فار سپورٹس کے 2 اپریل 2026 کے فیصلے کے تحت سابق صدر پی ڈبلیو ایف حافظ عمران بٹ پر تاحیات، جبکہ عرفان بٹ اور ابوبکر غنی پر 4 سال کی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن عبوری کمیٹی کے چیئرمین بریگیڈیئر (ر) زاہد اقبال کی جانب نے خط میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (پی او اے) کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پی او اے نے تاحیات پابندی کے شکار سابق صدر کو عہدے پر برقرار رکھ کر ڈوپنگ مافیا کی پشت پناہی کی۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی او اے معطل فیڈریشن کا الحاق فوری طور پر ختم کرے، اپنی صفوں میں تحقیقات کرے کہ عالمی جرمانے کی ادائیگی میں کیوں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، اور یا تو خود یہ رقم ادا کرے یا قصورواروں سے برآمد کروائے۔قومی ساکھ کو بچانے کے لیے عبوری کمیٹی نے پی ایس بی کو سفارش کی ہے کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذریعے طلحہ طالب سمیت تمام معطل کھلاڑیوں اور ذمہ دار سابق عہدیداروں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) یا پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کروائے تاکہ وہ جرمانہ ادا کیے بغیر بیرون ملک فرار نہ ہو سکیں۔
ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ رقم کی ادائیگی تک ان میں سے کسی بھی شخص کو کسی بھی عالمی مقابلے کے لیے ایکریڈیٹیشن نہ دی جائے۔ خط میں یٹ لفٹنگ کو بچانے کے لیے پاکستان سپورٹس بورڈ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ عالمی ویٹ لفٹنگ فیڈریشن (آئی ڈبلیو ایف) سے رجوع کر کے عبوری کمیٹی کی عارضی بحالی کی درخواست کرے تاکہ پاک دامن کھلاڑیوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔








