پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس سرمایہ کاری، برآمدات اور صنعتی ترقی کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی، وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس

"وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ پاکستان۔چین بزنس ٹو بزنس اور سرمایہ کاری کانفرنس غیر ملکی سرمایہ کاری، دوطرفہ اقتصادی تعاون اور برآمدات پر مبنی معاشی حکمت عملی کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔”

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ پاکستان۔چین بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) اور سرمایہ کاری کانفرنس غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، دوطرفہ اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور پاکستان کی برآمدات پر مبنی معاشی حکمت عملی کو تیز کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔

وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ ، وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں 17 اور 18 جولائی کو منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں تقریباً 500 چینی سرمایہ کار اور پاکستانی کاروباری شخصیات شرکت کریں گی جہاں بالخصوص دوا سازی اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیا جائے گا۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ملک میں مینوفیکچرنگ کے شعبے کو وسعت دے کر پائیدار برآمدی ترقی کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا بنیادی مقصد فارماسیوٹیکل سمیت معیشت کے دیگر اعلیٰ صلاحیت کے حامل شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح مینوفیکچرنگ پر مبنی معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی ہے۔قیصر احمد شیخ نے کہا کہ حکومت وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق مینوفیکچرنگ اور ایس ایم ایز کے ذریعے صنعتی اور زرعی ترقی کو فروغ دے رہی ہے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مالی معاونت اور لیکویڈیٹی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملکی معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے وقت یہ تقریباً 4 ارب ڈالر تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت بورڈ آف انویسٹمنٹ اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات اور سہولیات فراہم کر رہی ہے جن میں خصوصی اقتصادی زونز میں مسابقتی نرخوں پر اراضی کی فراہمی بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے متعدد سرمایہ کاری معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر پہلے ہی دستخط کیے جا چکے ہیں۔اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان چین بی ٹو بی اور سرمایہ کاری کانفرنس ملک میں مینوفیکچرنگ استعداد بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے ایک موثر محرک ثابت ہوگی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ سات بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے کے لیے تیار ہیں جن میں ویکسین تیار کرنے والے پلانٹس بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اسے پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ہارون اختر خان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششیں سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 500 چینی سرمایہ کاروں کی شرکت سے پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ متعدد کاروباری معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں جس سے صنعتی مسابقت میں اضافہ ہوگا اور دوطرفہ تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان مشترکہ طور پر سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات پر مبنی حکومتی معاشی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان چین بزنس ٹو بزنس اور سرمایہ کاری کانفرنس پاکستان کی معیشت کے اہم شعبوں میں سٹریٹجک شراکت داری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور نئی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

مزید خبریں