رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس

"قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے اجلاس میں مذہبی امور، بین المذاہب ہم آہنگی اور متعلقہ معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے کی۔”

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

کمیٹی نے حج آپریشن 2026 کی کارکردگی اور حج 2027 کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ وزیر مذہبی امور نے حج آپریشن 2026 کے کامیاب انعقاد پر کمیٹی کو آگاہ کیا اور ممبران کو بتایا کہ وزیراعظم نے کئی ملاقاتیں کیں اور مملکت سعودی عرب میں اللہ کے مہمانوں کی سہولت میں ذاتی دلچسپی لی۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کرام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا تناسب گزشتہ سالوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے اور حج آپریشن کے دوران وزارت کے انتظامات کو سراہا گیا۔ انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ حج 2027 کے لئے ریکارڈ تعداد میں 300,000 سے زائد رجسٹریشنز موصول ہوئی ہیں جو کہ حکومت کی حج سکیم پر قوم کے اعتماد اور حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔ کمیٹی کو ڈی جی حج (کے ایس اے) نے بریفنگ میں بتایا کہ تقریباً 119,000 پاکستانی عازمین نے سرکاری حج سکیم کے تحت حج کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حج مشن کو خدمات کی فراہمی کے اعلیٰ معیار کے اعتراف میں مسلسل دوسرے سال مملکت سعودی عرب کی جانب سے لیبائیٹم ایکسیلنس ایوارڈ ملا۔ وزارت نے ڈیجیٹل مینجمنٹ سسٹمز کی کامیاب پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ M-HOMS اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ ڈیش بورڈ نے آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے اور حجاج کی شکایات میں نمایاں کمی میں اہم کردار ادا کیا۔ حج آپریشن کی مجموعی کامیابی کو سراہتے ہوئے چیئرپرسن اوراراکین نے رہائش، نقل و حمل، خریداری کی ٹائم لائنز، اور سعودی حکام کے ساتھ ہم آہنگی سے متعلق آپریشنل کوتاہیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے ناکافی منصوبہ بندی پر تشویش کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں رہائشی عمارتوں کی بکھری ہوئی الاٹمنٹ، عمارتوں کی درجہ بندی میں تضادات، بلیک لسٹ کیٹرنگ کمپنیوں کی جانب سے ناقص خوراک کی فراہمی اور واپسی کی پروازوں میں نمایاں بدانتظامی پر تشویش کا اظہار کیا گیا جس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی حاجیوں کے لئے خدمات کو مزید بڑھانے کے لئے مسلسل اصلاحات اور بہتر منصوبہ بندی کی ضروری ہے۔ کمیٹی نے پیپرا قوانین کے برعکس الراجح کو ٹھیکہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ وزارت سعودی ٹائم لائنز کے مطابق رہائش اور کیمپوں کی بروقت خریداری میں سہولت فراہم کرنے کے لئے ایک موثر حج پروکیورمنٹ کمیٹی تشکیل دے۔ کمیٹی نے خاندانوں اور فلائٹ گروپس کی علیحدگی کو کم سے کم کرنے، مضبوط کارکردگی کے معیارات کے ذریعے رہائش، کیٹرنگ اور ٹرانسپورٹ سروس فراہم کرنے والوں کی جوابدہی کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور شکایت کے نظام کو وسعت دینے اور مستقبل کے حج آپریشن سے قبل آپریشنل مسائل کو اچھی طرح سے حل کرنے کے لئے سعودی حکام کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لئے ایک شفاف نظام متعارف کرانے کی سفارش کی۔ کمیٹی نے حج سے قبل اور بعد از حج نگرانی کے لئے ایک اعلیٰ سطحی نگران کمیٹی کی بحالی کی سفارش کی۔ اس نے یہ بھی سفارش کی کہ نئی حج پالیسی کو کابینہ کی منظوری سے قبل سٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے غور و خوض اور منتخب نمائندوں سے رائے دینے کے لئے پیش کیا جائے۔ کمیٹی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ اقلیتی ارکان پارلیمنٹ کو ان کی ترقیاتی سکیموں کے خلاف ناکافی ترقیاتی فنڈز مختص کئے جارہے ہیں۔ کمیٹی نے اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کے ترقیاتی فنڈز میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کی سفارش کی۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ ای ٹی بی اور اقلیتی ترقیاتی فنڈ کے بارے میں ایک جامع بریفنگ فراہم کرے۔اجلاس میں وزیر مذہبی امور سمیت کمیٹی کے ارکان اور متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

مزید خبریں