"وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے اپنے دورۂ امریکہ کے دوران کارنیل یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جامعہ کی قیادت، ماہرین تعلیم اور محققین سے ملاقاتیں کر کے اعلیٰ تعلیم، تحقیق، جدت اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا۔”
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا کارنیل یونیورسٹی کا دورہ، ماہرین تعلیم، محققین اور فیکلٹی اراکین سے ملاقاتیں ، اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق، اختراع، مصنوعی ذہانت اور عوامی پالیسی کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اپنے دورہ امریکا کے دوران بدھ کے روز دنیا کی ممتاز درسگاہ کارنیل یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے جامعہ کی اعلیٰ قیادت، ماہرین تعلیم، محققین اور فیکلٹی اراکین سے ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق، اختراع، زراعت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور عوامی پالیسی کے شعبوں میں پاکستان اور کارنیل یونیورسٹی کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بدھ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق کارنیل یونیورسٹی کی پرووسٹ پروفیسر ڈاکٹر کویتا بالا اور نائب پرووسٹ برائے بین الاقوامی امور سے ملاقات میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جامعات میں سرمایہ کاری درحقیقت کسی بھی قوم کی ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی عالمی قیادت کی بنیاد اس کی اعلیٰ معیار کی جامعات ہیں جہاں پیدا ہونے والا علم، تحقیق اور اختراع معیشت، حکمرانی، قومی سلامتی اور معاشرتی ترقی کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔وفاقی وزیر نے پاکستان کو علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے حکومتی وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے امریکا۔پاکستان نالج کوریڈور پروگرام سے آگاہ کیا، جس کے تحت دس ہزار پاکستانی سکالرز کو دنیا کی ممتاز جامعات سے ڈاکٹریٹ کی تعلیم دلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت، موسمیاتی سائنس، زرعی ٹیکنالوجی، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور دیگر جدید علوم میں انسانی وسائل کی استعداد بڑھانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ قومی پیداواری صلاحیت، مسابقت اور جدید استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔احسن اقبال نے پاکستان اور کارنیل یونیورسٹی کے درمیان تعاون کے تین اہم شعبے تجویز کیے۔ انہوں نے کارنیل یونیورسٹی کے بروکس سکول آف پبلک پالیسی کو دعوت دی کہ وہ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اسے قومی جامعہ برائے عوامی انتظامیہ میں تبدیل کرنے کے عمل میں نصاب سازی، اساتذہ کی استعداد کار اور انتظامی تربیت کے شعبوں میں معاونت فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بیرون ملک تربیت اپنی اہمیت رکھتی ہے تاہم پاکستان کے اندر مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر مستقبل کی سول سروس کی تیاری کے لیے ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے کارنیل یونیورسٹی کو پاکستان میں قائم کیے جانے والے ڈاکٹر اشفاق احمد سینٹر آف ایکسیلنس برائے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا شراکت دار بننے کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز حیاتیاتی ٹیکنالوجی، زرعی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید علوم میں تحقیق کا قومی مرکز ہوگا جبکہ کارنیل یونیورسٹی کی عالمی شہرت یافتہ مہارت تحقیق، صنعت، جامعات اور کاروباری اختراع کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے مصنوعی ذہانت کے اعلیٰ تعلیم پر اثرات کے حوالے سے مشترکہ تحقیق کی بھی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جامعات میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تدریس، تحقیق اور مستقبل کے تعلیمی نظام کے حوالے سے کارنیل یونیورسٹی کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔کارنیل یونیورسٹی کی قیادت نے وفاقی وزیر کی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلیمی روابط مزید مستحکم کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ جامعہ نے پاکستانی طلبہ کی گریجویٹ اور ڈاکٹریٹ پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی بالخصوص فل برائٹ پروگرام کے تحت دستیاب مواقع سے استفادے کی خواہش بھی ظاہر کی۔وفاقی وزیر نے کارنیل انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اور کالج آف ایگریکلچر اینڈ لائف سائنسز کا بھی دورہ کیا جہاں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹیمی میگنس، ڈین پروفیسر ڈاکٹر لوری لیونارڈ اور پروفیسر ڈاکٹر اویس خان سے ملاقات کے دوران زرعی تحقیق، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل زراعت، اختراع اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی نظام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی معیشت ہے اور زرعی پیداوار، معیار اور ویلیو ایڈیشن میں اضافہ پائیدار معاشی ترقی اور غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اڑان پاکستان کے تحت موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی اصلاحات پر عمل پیرا ہے اور پودوں کے علوم، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، درست زرعی نظام اور ڈیجیٹل زرعی خدمات کے شعبوں میں کارنیل یونیورسٹی کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہاں ہے۔وفاقی وزیر نے مشترکہ عملی تحقیق کے فروغ، مرکزی تحقیقی تجربہ گاہ کے قیام، بہتر اقسام اور روٹ سٹاکس کی تیاری، پاکستان کی زرعی استعداد کی کلسٹر میپنگ اور افزائش نسل، آبپاشی، زرعی مشینی نظام، تجارتی ترقی اور برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی تجویز بھی پیش کی۔بعد ازاں وفاقی وزیر نے سینٹر فار لائف سائنس وینچرز کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹر ینگ یانگ نے انہیں کارنیل یونیورسٹی کے اختراعی نظام، بائیوٹیکنالوجی پر مبنی سٹارٹ اپ اداروں اور تحقیق کو کاروباری سرگرمیوں میں تبدیل کرنے کے ماڈل پر تفصیلی بریفنگ دی۔سینٹر کے بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر لو والچر سے ملاقات میں پاکستان کے اختراعی نظام کو مضبوط بنانے، ٹیکنالوجی کی تجارتی بنیادوں پر منتقلی، سٹارٹ اپس کی سرپرستی اور جامعہ و صنعت کے درمیان موثر روابط کے فروغ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت جامعات میں ہونے والی تحقیق کو عملی اور ین لاقوامی طرز پر مبنی تحقیق میں تبدیل کرنا چاہتی ہے تاکہ قومی ترقی کے تقاضے پورے ہونے کے ساتھ نجی شعبے کی ترقی کو بھی فروغ مل سکے۔ انہوں نے کارنیل کے ماہرین کو پاکستان میں اختراعی مراکز کے قیام میں تعاون کی دعوت دیتے ہوئے کامیاب بین الاقوامی ادارہ جاتی ماڈلز اور بہترین تجربات سے آگاہ کرنے کی درخواست بھی کی۔کارنیل یونیورسٹی کے بروکس سکول آف پبلک پالیسی کے دورے کے دوران وفاقی وزیر نے عوامی پالیسی کے شعبے میں تعاون کے فروغ سے متعلق اجلاس میں شرکت کی اور پاکستان کی وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پلاننگ کمیشن اور کارنیل یونیورسٹی کے درمیان عوامی پالیسی کی تعلیم، تحقیق اور استعداد کار میں تعاون کے فروغ کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کارنیل یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور محققین کے ساتھ منعقدہ گول میز مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی اعلیٰ تعلیم میں جاری اصلاحات کا ذکر کیا اور کہا کہ تحقیق، اختراع، کاروباری صلاحیت اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون ہی پاکستان کے نوجوانوں کو مستقبل کے عالمی مواقع سے ہم آہنگ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی محققین اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے علم، تجربے اور تحقیقی روابط کو پاکستان کی قومی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔اپنے دورے کے اختتام پر وفاقی وزیر نے پاکستانی نژاد امریکی برادری، کارنیل یونیورسٹی کے اساتذہ اور محققین کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں شرکت کی جہاں انہوں نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلیم، سائنس، تحقیق اور اقتصادی تعاون کے فروغ میں پاکستانی تارکین وطن کے قابل قدر کردار کو سراہا۔








