گورنر خیبرپختونخوا سے جنوبی وزیرستان لوئر احمدزئی وزیر جرگہ کی ملاقات ،امن و امان کی صورتحال سمیت ترقیاتی منصوبوں پرتبادلہ خیال

"گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے جنوبی وزیرستان لوئر احمدزئی وزیر جرگہ نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی، جس میں علاقے کے عوامی مسائل، ترقیاتی امور، امن و استحکام اور باہمی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔”

پشاور۔ 15 جولائی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں جنوبی وزیرستان لوئر احمدزئی وزیر جرگہ نے ملاقات کی۔ترجمان گورنر ہاؤس پشاور کے مطابق جرگہ کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی وزیرستان کے جنرل سیکریٹری عمران مخلص کر رہے تھےجبکہ جمال ناصر، نصراللہ، میر غلام اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی خیبرپختونخوا کے چیئرمین فرزند وزیر اس موقع پر موجود تھے

جرگہ نے جنوبی وزیرستان سمیت ضم شدہ اضلاع کی امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات، ٹیکس پالیسی، سرحدی تجارت اور عوام کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے جرگے سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ امن کے بغیر صوبے کی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی دوبارہ لہر انتہائی تشویشناک ہے اور اس کا مقابلہ قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی سے کیا جانا چاہیے۔گورنر نے کہا کہ سابق فاٹا کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت تین فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو سالانہ تقریباً 100 ارب روپے بنتا ہے، اور اس وعدے پر ہر صورت عمل درآمد ہونا چاہیے۔انہوں نے سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین کو ٹیکس نافذ کرنے سے قبل خود ان علاقوں کا دورہ کرکے زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ضم شدہ اضلاع کے ٹیکس مسائل باہمی مشاورت سے حل کرنے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختو نخوا بجلی، تیل اور گیس پیدا کرنے والاصوبہ ہونے کے باوجود توانائی کی قلت کا شکار ہےجبکہ آئین کے مطابق صوبے کو اس کے تمام آئینی حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحفظ اور صوبائی اختیارات کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔گورنر نے صوبے میں گندم کی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختو نخوا کے آئینی اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے۔انہوں نے جرگہ کو یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ، گومل زام روڈ، نادرا سہولیات اور دیگر عوامی مسائل متعلقہ اداروں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور ان کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔اس موقع پر جرگہ ارکان نے جنوبی وزیرستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، اسکولوں اور صحت کے مراکز کو درپیش سکیورٹی خطرات، بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے واقعات اور تجارت و پھلوں کے کاروبار کی تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔وفد نے مطالبہ کیا کہ 2023 سے بند انگور اڈہ بارڈر فوری طور پر کھولا جائے تاکہ ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی وزیرستان میں تجارتی اور معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو سکیں۔جرگہ نے خواتین کے لیے اسپتال کے قیام، مقامی آبادی کو ٹیکس میں ریلیف، مفت بجلی کی فراہمی، اساتذہ کی آسامیوں میں اضافہ، گومل زام روڈ کو انگور اڈہ تک توسیع دینے، وزیرستان میں سیاحت کے فروغ، گومل زام کے مقام پر تفریحی پوائنٹ قائم کرنے، ہر تحصیل میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور نادرا رجسٹریشن مراکز کے قیام کے علاوہ وانا پریس کلب سے وابستہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کا بھی مطالبہ کیا۔

مزید خبریں