پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی تعلقات کا ورثہ آئندہ نسلوں تک جاری رہنا چاہئے، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا ترکیہ کے یوم جمہوریت اور قومی یکجہتی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب

"وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تاریخی ورثے، مشترکہ اقدار اور دیرینہ دوستی کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔”

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے آبائو اجداد کی قائم کردہ تاریخی روایات اور ورثے کو آنے والی نسلوں تک جاری رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

بدھ کو یہاں ترکیہ کے سفارت خانہ میں ترکیہ کے یوم جمہوریت اور قومی یکجہتی کی دسویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج اس تاریخی موقع کو دس برس مکمل ہو رہے ہیں جب ترک قوم نے جرات، بہادری اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر قسم کی آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہ دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جب قومیں اپنی تقدیر کو طاقت، خوشحالی اور ترقی سے وابستہ کرنے کا عزم کرلیں تو وہ عظیم کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیر نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان کو محکوم بنایا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات پاکستان کے قیام سے بھی پہلے کے ہیں، ہمارے آبائو اجداد نے ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران اپنے ترک بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر برصغیر کی خواتین کی جانب سے ترک بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لئے کئے گئے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی روایت ہے جو نسل در نسل ہم تک منتقل ہوتی آئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قیام پاکستان سے قبل بھی برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں ترک عوام کے لئے اخوت اور بھائی چارے کا جذبہ موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان یہ تاریخی رشتہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے اور آنے والی دہائیوں میں بھی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان یہ تعلق مزید مستحکم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مختلف مواقع پر ہونے والی ملاقاتوں اور روابط کا حصہ بننے کا اعزاز حاصل رہا ہے جہاں انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم ہوتے دیکھا ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے قومی ترانے کے ایک مصرعے ”پرچم ستارہ و ہلال، رہبر ترقی و کمال“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ستارے اور ہلال والا پرچم خوشحالی اور عظمت کی بلندی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ ایک ہی ہلال اور ایک ہی ستارے کی علامت سے جڑے ہوئے ہیں جو دونوں ممالک کی ترقی اور پیشرفت کی نشانی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دہائیوں پر محیط مضبوط عوامی رابطہ موجود ہے جو مستقبل میں بھی قائم رہے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر ایردوان نے جس انداز میں ترک قوم کی قیادت کی اور ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا، وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران صدر ایردوان نے ترک جمہوریہ کو نمایاں طور پر تبدیل کیا اور آج ترکیہ نہ صرف ایک معاشی بلکہ مضبوط دفاعی طاقت بھی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ترک عوام اپنی قیادت پر اعتماد رکھتے ہیں اور کسی بھی مشکل کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے ترک صدر کے قوم سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے کہا تھا کہ ”میں استنبول آ رہا ہوں اور ہم اپنی قوم کے دفاع اور اتحاد کے لئے مل کر جدوجہد کریں گے“ تو یہ لمحہ ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا جس کے بعد بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ وفاقی وزیر نے ترک جمہوریہ کے لئے بے خوفی، جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 250 شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں، دس سال گزرنے کے بعد آج اسلام آباد سمیت دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں نہ صرف ان شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے پسماندگان اور اہل خانہ کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جب بھی کوئی اہم پیشرفت یا صورتحال سامنے آئی، پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شمالی قبرص کے معاملے پر پاکستان ہمیشہ ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتا آیا ہے، اسی طرح مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آبائو اجداد نے جو عظیم ورثہ ہمیں دیا ہے، اسے آنے والی کئی نسلوں تک جاری رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کی تاریخی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اس وقت پارلیمنٹ میں موجود ایک نوجوان ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، جب پارلیمنٹ کی عمارت کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اور وہ ایک بہادر سپاہی کی طرح حالات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ اس مشکل وقت میں ترکیہ کے سفیر نے جس عزم، حوصلے اور بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی یہ تاریخی دن یاد کیا جائے گا تو ترکیہ کی قوم کے ایک بہادر فرزند کے طور پر ان کی خدمات بھی یاد رکھی جائیں گی جنہوں نے مشکل حالات میں صفِ اول میں رہ کر اپنا کردار ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے پاکستانی عوام کے ساتھ محبت اور یکجہتی کے اظہار پر ترکیہ کی قیادت کا دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ہم ترکیہ جاتے ہیں تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اپنے گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام پاکستانی شہری بھی جب ترکیہ کا دورہ کرتے ہیں تو وہاں انہیں بے پناہ عزت اور محبت ملتی ہے۔ لوگ واپس آ کر بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے ترک عوام کو بتایا کہ وہ پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں تو انہیں بھرپور احترام اور محبت دی گئی، جسے پاکستان انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ دن نہ صرف ترک قوم کے عزم، بہادری اور قربانی کی عظیم مثال ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ پیغام بھی ہے کہ مشکل وقت میں ثابت قدم رہنے والی قومیں ہی کامیاب ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام نے اس موقع پر نہ صرف جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا بلکہ اتحاد کا بھی شاندار ثبوت دیا اور یہی اقدار کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ہر سال ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور اس تاریخی جدوجہد میں کردار ادا کرنے والوں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ترکیہ کے لیے مزید ترقی، خوشحالی اور کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ترک قوم کو مزید مضبوط بنانے اور عوام کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے کے لیے مزید حوصلہ فراہم کرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنے ترک بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ان کے دادا نے بطور صدر پاکستان 1998ء میں ترکیہ کا دورہ کیا تھا اور واپسی پر اس دورے کی بہت خوبصورت یادیں اپنے ساتھ لائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران انہیں اس وقت کے ترک صدر سلیمان دمیرل نے خوش آمدید کہا تھا اور آج بھی اس دورے کی یادگار تصاویر ان کے پاس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ یادیں اور روایات ہیں جو نسل در نسل ہم تک منتقل ہوئی ہیں اور ہم نے انہیں اپنے دل کے قریب ایک قیمتی ورثے کے طور پر محفوظ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ دوستی زندہ باد، دونوں ممالک کے درمیان یہ لازوال رشتہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔