صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی کا انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

"انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد نے فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ کے اشتراک سے ‘تبدیل ہوتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول میں پاکستان’ کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں علاقائی و عالمی چیلنجز اور پاکستان کے تزویراتی کردار پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔”

اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد کے سینٹر فار افغانستان مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ نے فریڈرک ایبرٹ اسٹفٹنگ کے اشتراک سے ’’تبدیل ہوتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول میں پاکستان‘‘ کے عنوان سے بدھ کو یہاں ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی تھے۔ مقررین میں ڈائریکٹر سینٹر فار افغانستان مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ ڈاکٹر آمنہ خان، چیئرمین بورڈ آف گورنرز انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹیڈیز خالد محمود، کنٹری ڈائریکٹر ایف ای ایس پاکستان فیلکس کولبٹز آرنو کرک ہوف اور جرمنی کے ناظم الامور شامل تھے۔صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس نہایت بروقت اور اہم ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی اہم لمحے میں دنیا بھر کے ماہرین کو یکجا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک تبدیلی کے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہم یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف منتقلی دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا نظام ٹوٹ رہا ہے اور بڑی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے دائرے بنا رہی ہیں، آج پاکستان بھی کئی منتقلیوں کے سنگم پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کی بھارت-پاکستان جنگ اور امریکہ-ایران کے درمیان جاری تنازعہ سب پاکستان کو متاثر کرتے ہیں۔ صدر مملکت کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جی سی سی، چین اور امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، پاکستان نے خود کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوش کی ہے اور ایک غیر مستحکم خطے میں امن لانے کی کوشش کی ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن اور مستحکم تعلقات کا خواہاں ہے اور تاریخی طور پر افغان عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہیں چاہے گا کہ افغانستان دہشت گردی کے لیے عالمی پناہ گاہ بنے، پاکستان چین، ترکیہ اور قطر کی افغانستان سے متعلق اپنی شراکت داری میں ثالثی کو خوش آمدید کہتا ہے، پاکستان علاقائی روابط میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ جی سی سی سے تعلقات بہتر بنانے کے ہمارے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے اور پاکستان کے ایران سے بھی بہت اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی تبدیلی سے گزر رہی ہے اور ہم وبائی امراض، قدرتی آفات اور دیگر چیلنجز جیسے متعدد مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد علاقائی ہمسایوں کے ساتھ تزویراتی توازن اور فعال سفارتکاری پر ہے۔ آرنو کرک ہوف نے چیلنجز کے باوجود یورپی یونین کو ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے اصولوں پر مبنی عالمی نظام کی فعالیت اور پائیداری کے حوالے سے امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے کئی اہم شعبوں کی نشاندہی کی جن میں پاکستان جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے ساتھ اپنی شراکت داری قائم اور مضبوط کرسکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، اور انسانی وسائل کے تبادلے کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ فیلکس کولبٹز نے خطے اور اس سے باہر پاکستان کی حالیہ عالمی سفارتی اقدامات کو قابلِ تعریف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے میں کامیاب ثالثی اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے سے پاکستان خطے کے لیے ایک خالص سلامتی فراہم کنندہ کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان کے منفرد جغرافیے کی نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو درپیش کئی اہم چیلنجز جیسے پانی اور موسمیاتی سلامتی اور سرحد پار دہشت گردی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ مشترکہ چیلنجز ہیں جن کے لیے عالمی برادری کی جانب سے اجتماعی حکمتِ عملی اور مشترکہ ردعمل درکار ہے۔ قبل ازیں اپنے خیرمقدمی کلمات میں خالد محمود نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے علاقائی اور عالمی ماحول میں موجود ہے جو تیزی سے تبدیل ہورہا ہے جہاں تزویراتی مقابلہ شدت اختیار کررہا ہے، علاقائی صف بندیوں میں تبدیلی آرہی ہے اور تنازعات کے سیاسی و اقتصادی اثرات وسیع ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی اور غیر روایتی سلامتی کے چیلنجز کے درمیان فرق تیزی سے مٹ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت نظریاتی نہیں ہے کیونکہ یہ براہ راست ہماری سلامتی، معیشت، سفارتکاری اور علاقائی نقطہ نظر پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان کا محلِ وقوع اسے تزویراتی اہمیت دیتا ہے لیکن یہ ایک متوازن، سوچا سمجھا اور دور اندیش خارجہ پالیسی اپنانے کی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے، پاکستان کا نقطہ نظر ہمیشہ مکالمے، پرامن بقائے باہمی، خودمختاری کے احترام، علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور رابطوں پر مبنی رہا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر آمنہ خان نے کہا کہ سینٹر فار افغانستان مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ-ایف ای ایس کی سالانہ کانفرنس مشترکہ چیلنجز اور بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کی گہری تفہیم اور مکالمے کو فروغ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسے ’’مشکل پڑوس‘‘ میں واقع ہے جس کا ذکر مسلسل کیا جاتا ہے، یہ خطہ روایتی اور غیر روایتی سلامتی کے چیلنجز کے پیچیدہ امتزاج کا سامنا کر رہا ہے جو جغرافیائی سیاسی حریفانہ رویوں، بڑی طاقتوں کی مقابلہ آرائی اور طویل تنازعات کی وجہ سے مزید سنگین ہو گیا ہے تاہم ساتھ ہی اس خطے میں رابطوں، اقتصادی انضمام اور مشترکہ خوشحالی کا وسیع امکان بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گہرے جغرافیائی سیاسی انقلاب کے اس دور میں اعتماد سازی، رابطوں کو فروغ دینے، اور پائیدار امن و مشترکہ خوشحالی کے لیے مسلسل مکالمہ اور علاقائی تعاون ناگزیر ہیں۔

مزید خبریں