اسلام آباد۔31اگست (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) نےسٹیٹ بینک کی جانب سے برآمدکنندگان کے لیے بیرون ملک سے برآمدی آمدن واپس لانے میں تاخیر پر جرمانہ عائد کرنے کے فیصلہ کو واپس لینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات کے فروغ کی راہ میں حائل ایسی دیگر رکاوٹوں کو بھی دور کیا جائے ، بد ترین سیلاب سے دیہی علاقوں میں ہاتھ سے قالینوں کی تیاری کے سٹرکچر کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے ،حکومت سے اپیل ہے کہ سیلاب کا پانی اترنے کے بعد متاثرین کی فوری بحالی کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے ۔
ان خیالات کااظہار چیئرمین میاں عتیق الرحمان اور وائس چیئرمین ریاض احمد نے ایسوسی ایشن کے دفتر میں منعقدہ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمان، سینئر ممبر عثمان اشرف، میجر (ر) اختر نذیر ، سعید خان ، سعد الرحمان، فیصل سعید خان اور دیگر بھی موجود تھے۔
اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے برآمدی آمدن وقت پر نہ لانے پر جرمانہ لگانے کا سرکلر واپس لینے کا فیصلہ خو ش آئند ہے اور اس سے برآمد کنندگان خصوصاً ہاتھ سے بنے قالینو ں کے مینو فیکچررز اور برآمد کنندگان کو ریلیف ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سمندری حدود بند ہونے سے شپنگ روٹس میں تبدیلی آئی ہے جس کے باعث شپنگ روٹس طویل ہو گئے ہیں اور برآمدی آرڈرز کی ترسیل کا دورانیہ بڑھ گیا ہے اسی تناسب سے برآمدی آمدنی وطن آنے میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔
میاں عتیق الرحمان اور ریاض احمد نے کہا کہ ہاتھ سے قالینوں کی تیاری کرنے والے مرد و خواتین ہنر مندوں کی اکثریت کا تعلق پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہے جو حالیہ بد ترین سیلاب کی زد میں آئے ہیں اور ان کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔
شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صنعت سے وابستہ ہنر مندوں کے حالات سے آگاہی حاصل کی جائے گی اور ان کی دوبارہ بحالی میں ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی ، ہم حکومت سے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے بغیر کسی تاخیر کے جامع پیکج کا اعلان کرے گی جس سے یہ لوگ دوبارہ اپنے گھروں میں آباد ہو سکیں گے۔ اجلاس میں رواں سال اکتوبر میں منعقدہ ہونے والی ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی نمائش کی تیاریوں پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا ۔