پاکستان کا سوڈان میں فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی حل پر زور

اقوام متحدہ ۔23دسمبر (اے پی پی):پاکستان نےسوڈان میں جاری خونریز تنازع کی شدت کے پیش نظر فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے سوڈانی عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن سیاسی انتقالِ اقتدار پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کے تنازع کا …

اقوام متحدہ ۔23دسمبر (اے پی پی):پاکستان نےسوڈان میں جاری خونریز تنازع کی شدت کے پیش نظر فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے سوڈانی عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن سیاسی انتقالِ اقتدار پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کے تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تنازع کا واحد پائیدار راستہ سیاسی مکالمہ اور مفاہمت ہے۔

سفیر عثمان جدون نے بتایا کہ یہ تنازع اپریل 2023 میں سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف ) اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف ) کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے باعث شروع ہوا، جو بعد ازاں پورے ملک میں پھیل گیا۔ لڑائی کے نتیجے میں شہر تباہ، لاکھوں افراد بے گھر اور دارفور سمیت کئی علاقوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ سوڈان کا بحران شدید ہوتا جا رہا ہے اور اس کی سب سے بھاری قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں، حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے امن دستے بھی محفوظ نہیں رہے۔

اس موقع پر پاکستانی مندوب نے گزشتہ ہفتے متنازع علاقے ابیئی میں تعینات اقوام متحدہ کے امن دستوں پر ہونے والے مہلک ڈرون حملے کی شدید مذمت کی، جس میں چھ بنگلہ دیشی امن اہلکار ہلاک ہوئے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ حملہ کسی خلا میں نہیں ہوا بلکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی تازہ رپورٹ پہلے ہی امن دستوں کو درپیش بڑھتے خطرات بالخصوص آرایس ایف کی جانب سے دراندازی، کی نشاندہی کر چکی تھی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ رواں سال آرایس ایف نے 60 امن اہلکاروں کو اغوا کیا اور اقوام متحدہ کے اثاثے اور ایندھن کے ٹرک بھی قبضے میں لیے۔انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ امن دستوں پر حملوں کے ذمہ داروں کو کسی صورت جوابدہی سے بچنے نہ دیا جائے۔پاکستانی مندوب نے الزام لگایا کہ آرایس ایف نے کنڈرگارٹن میں بچوں کے قتل، سکولوں ،ہسپتالوں اور خاص طور پر دارفور، ال جنینہ، الفاشر اور کوردوفان کے علاقوں میں حملوں سمیت متعدد سنگین مظالم کا ارتکاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ الفاشر کے محاصرے سے قبل عالمی برادری کو بارہا خبردار کیا گیا تھا اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2736 میں محاصرہ ختم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا مگر زمینی حقائق میں نافرمانی کے نتیجے میں تباہ کن نتائج سامنے آئے، جس سے کونسل کی ساکھ متاثر ہوئی۔سفیر عثمان جدون نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ انسانی امداد کے لیے محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے اور امدادی راستوں کا تحفظ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مستقل طور پر سوڈانی حکومت کے عبوری روڈ میپ کی حمایت کی ہے، جس میں وزیرِاعظم کامل ادریس اور ان کی ٹیکنوکریٹ کابینہ کی تقرری شامل ہے، جن کا مقصد انسانی بحران میں کمی اور جامع سیاسی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔پاکستان نے سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ، کسی بھی متوازی حکومت یا ڈھانچے کو مسترد کرنے، امن کی مختلف کوششوں میں ہم آہنگی اور جنگی جرائم بالخصوص امن اہلکاروں اور امدادی کارکنوں پر حملوں کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر زور دیا۔