24.2 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومقومی خبریںپاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل سستے سمارٹ فونز کی دستیابی اور یونیورسل انٹرنیٹ...

پاکستان کا ڈیجیٹل مستقبل سستے سمارٹ فونز کی دستیابی اور یونیورسل انٹرنیٹ سے لے کر کیش سے پاک جامع معیشت کے قیام میں مضمر ہے، سی ای او جاز

- Advertisement -

اسلام آباد۔9اگست (اے پی پی):جاز قیادت نے ایم اے ڈیجیٹل نیشن سمٹ میں پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کا وژن پیش کرتے ہوئے سستے سمارٹ فونز، یونیورسل انٹرنیٹ اور کیش سے پاک جامع معیشت کے قیام پر زور دیا۔جاز کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق جاز کے سی ای او اور چیئرمین موبی لنک بینک عامر ابراہیم اور جاز کے صدر کنزیومر ڈویژن کاظم مجتبیٰ نے اعلیٰ سطحی سیشنز میں شرکت کی اور ریگولیٹری اصلاحات، ڈیجیٹل اعتماد، انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، دیہی و شہری اور صنفی ڈیجیٹل فرق کو کم کرنے کے لیے اہداف پر مبنی اقدامات کو اجاگر کیا۔

سمٹ کے دوران پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے استحکام، جامع کنیکٹیویٹی اور کراس سیکٹر اصلاحات کے تحت بلڈنگ اے فیوچر ریڈی ڈیجیٹل پاکستان کے سیشن میں عامر ابراہیم نے ملک کے ڈیجیٹل عزائم کے فروغ کے لیے یونیورسل اور سستی انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کی ضرورت پر زور دیا۔ سیشن کی میزبانی جولیان گورمن، ہیڈ آف ایشیا پیسیفک جی ایس ایم اے نے کی اور اس میں ٹیلی نار پاکستان کے سی ای او خرم اشفاق اور چیئرمین پاشا سجاد سید سمیت صنعت کے دیگر رہنما شامل تھے۔

- Advertisement -

عامر ابراہیم نے ٹیلی کام کے کردار کو ایک کراس سیکٹر اینیبلر کے طور پر اجاگر کیا اور آپریٹرز کے لیے سازگار کاروباری ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسا ریگولیٹری ماحول چاہیے جو مستقبل کے تقاضوں کی رفتار سے ہم آہنگ ہواور اس بات کو دہرایا کہ سمارٹ فونز کی استطاعت اور انٹرنیٹ کی جامع دستیابی پاکستان کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ تک رسائی ہر ایک کے لیے یکساں ہونی چاہیے، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کہیں بھی رہتا ہو۔

انہوں نے سپیکٹرم کی الاٹمنٹ میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تاکہ نیٹ ورک توسیع کو مزید تقویت ملے۔ اسی طرح کیش کے خلاف مشترکہ جدوجہد، قابلِ اعتماد ڈیجیٹل معیشت کی کلید کے موضوع پر ٹرسٹ بائی ڈیزائن ،بلڈنگ کانفیڈنس ان دی ڈیجیٹل اکانومی کے سیشن میں عامر ابراہیم نے کہا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل معیشت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ فِن ٹیک کمپنیوں کے درمیان مسابقت کا فقدان اور کیش پر ضرورت سے زیادہ انحصار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مقابلہ پیمنٹ سروس پرووائیڈرزکے درمیان نہیں بلکہ کیش کے خلاف ایک مشترکہ جدوجہد ہے۔انہوں نے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر ڈیجیٹل پیمنٹ کے لازمی آپشنز تجویز کیے اور ڈیجیٹل منتقلی میں شمولیت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شمولیت سب کچھ ہے، ڈیجیٹل معیشت ہر پاکستانی کے لیے بلا تفریق قابلِ رسائی ہونی چاہیے۔

مزید برآں گفتگو کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کنیکٹنگ دی اَن کنیکٹڈ ، وٹ ورکس ان کلوزنگ دی یوزج گیپ کے سیشن میں کاظم مجتبیٰ نے زور دیا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے کے لیے استطاعت اور ڈیجیٹل خواندگی دونوں پر یکساں توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمارٹ فون محض ایک ڈیوائس نہیں بلکہ ڈیجیٹل معیشت میں داخلے کا پاسپورٹ ہے، خاص طور پر خواتین اور پسماندہ کمیونٹیز کے لیے بہت اہم ہے، اس کے بغیر معاشرے کے بڑے حصے مواقع سے محروم رہتے ہیں۔انہوں نے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان اور خاص طور پر خواتین میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں واضح فرق کی نشاندہی کی اور بتایا کہ جاز نے دیہی علاقوں میں خواتین کو موبائل ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کے لیے خواتین عملہ تعینات کیا ہے۔ کنیکٹیویٹی اب لگژری نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت ہے۔

جب خواتین ڈیجیٹل طور پر بااختیار ہوتی ہیں تو وہ نہ صرف خود کو بلکہ اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز کو بھی ترقی دیتی ہیں۔ کاظم مجتبیٰ نے ’’پنا کلینک ‘‘کے نام سے جاز کا جلد متعارف ہونے والا اے آئی پر مبنی ہیلتھ پلیٹ فارم بھی متعارف کروایا جو 150 شہروں میں 30 ہزار ڈاکٹروں کے نیٹ ورک کے ذریعے ٹیلی کنسلٹیشنز، لیب ٹیسٹ، سرجریز اور تشخیصی خدمات فراہم کرے گا۔ انہوں نے فکر فری کے بارے میں بھی بات کی جو جاز کی ایک انشورٹیک پروڈکٹ ہے جس کا مقصد خواتین اور کم آمدنی والے صارفین کے لیے سستی اور قابلِ رسائی ہیلتھ اور حادثاتی انشورنس فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں خواتین میں انشورنس کی شرح دنیا میں سب سے کم ہے۔ فکر فری جیسے ڈیجیٹل حل کے ذریعے ہم تحفظ اور ذہنی سکون ان لوگوں تک پہنچا رہے ہیں جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔مشترکہ اقدام کی اپیل کرتے ہوئے کاظم مجتبیٰ نے کہا کہ مستقبل ان لوگوں کا ہو گا جو جڑے ہوئے، باصلاحیت اور باخبر ہوں۔ ہمیں آج خواتین اور نوجوانوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ ایک حقیقی معنوں میں جامع ڈیجیٹل پاکستان تشکیل دیا جا سکے۔

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں