پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولرز خرم شہزاد اور محمد عباس کو آئی سی سی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی پر سزا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولرز خرم شہزاد اور محمد عباس کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹاروبا میں کھیلے گئے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران آئی سی سی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی پر سزا دے دی گئی۔

لاہور۔30جولائی (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولرز خرم شہزاد اور محمد عباس کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹاروبا میں کھیلے گئے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران آئی سی سی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی پر سزا دے دی گئی۔

آئی سی سی کے مطابق خرم شہزاد پر لیول ون کی خلاف ورزی کے باعث میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ محمد عباس کو سرکاری طور پر وارننگ دی گئی۔ دونوں کھلاڑیوں کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک، ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 24 ماہ کے دوران دونوں کا یہ پہلا ڈسپلنری جرم ہے۔خرم شہزاد نے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز کے 17ویں اوور میں شائی ہوپ کو آوٹ کرنے کے بعد ان کے قریب جا کر جارحانہ انداز میں جشن منایا، جسے بلے باز کو اشتعال دلانے کے مترادف قرار دیا گیا۔ اسی طرح محمد عباس نے آخری وکٹ گرنے پر جومیل واریکن کے قریب پرجوش انداز میں جشن منایا، جس پر انہیں بھی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا۔دونوں کھلاڑیوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے میچ ریفری جیف کرو کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کر لی، جس کے باعث باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔آن فیلڈ امپائرز الیکس وارف، رچرڈ کیٹلبرو اور تھرڈ امپائر جے رامن مدناگوپال نے دونوں کھلاڑیوں پر الزامات عائد کیے تھے۔آئی سی سی قوانین کے مطابق لیول ون خلاف ورزی پر کم از کم سرکاری وارننگ جبکہ زیادہ سے زیادہ میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ اور ایک یا دو ڈیمیرٹ پوائنٹس دیے جا سکتے ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی 24 ماہ کے دوران چار یا اس سے زائد ڈیمیرٹ پوائنٹس حاصل کر لے تو انہیں معطلی کے پوائنٹس میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، جبکہ دو معطلی پوائنٹس کی صورت میں ایک ٹیسٹ یا دو ون ڈے یا دو ٹی ٹوئنٹی میچز کی پابندی عائد کی جاتی ہے۔