21.6 C
Islamabad
جمعرات, اپریل 3, 2025
ہومتجارتی خبریںپاکستان کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، قونصل جنرل یو...

پاکستان کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، قونصل جنرل یو اے ای بخیت عتیق الرومیتی

- Advertisement -

کراچی۔ 29 نومبر (اے پی پی):متحدہ عرب امارات کے کراچی میں تعینات قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مشکل حالات میں یو اے ای کا ساتھ دیا، پاکستان کو بھی مشکل میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، چاہتے ہیں پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھے اور متحدہ عرب امارات سے پوری دنیا کو ری ایکسپورٹ کرنے میں مدد کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کوکورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)کے دورے کے موقع پر کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر فراز الرحمان، ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا، سینئر نائب صدر نگہت اعوان، نائب صدر مسلم محمدی، قائمہ کمیٹی برائے سفارتی امور کے چیئرمین راشد صدیقی، سابق چیئرمین شیخ فضل جلیل، طارق ملک سمیت دیگر ممبران اور صنعتکار موجود تھے۔

قونصل جنرل نے مزید کہا کہ میں خاص طور پر صنعتکاروں کو اعتماد دلوانے آیا ہوں، یو اے ای میں 15سے 16لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جو ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستانی بہت ٹیلنٹڈ لوگ ہیں، یہی وجہ ہے کہ کراچی میں خاص ویزا سینٹر کھولا ہے جہاں پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ زید نے پاکستان سے بہت گہرے تعلقات رکھے ہیں اور وہ پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، تجارت کے فروغ کیلئے پاکستانی کمپنیوں کو براہ راست اماراتی وزارت خارجہ میں رجسٹر کر رہے ہیں جس سے دوطرفہ تجارت میں تیزی آئے گی۔

- Advertisement -

بخیت عتیق الرومیتی نے مزید کہا کہ کاٹی کے صنعتکاروں کو امارات میں چیمبر آف کامرس، تمام انڈسٹریل زونز اور شعبوں میں، تجارتی میلوں میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، کاٹی کے ممبران یو اے ای میں ہونے والی اہم بین الاقوامی تجارتی تقاریب میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ امارات میں مقیم پاکستانی اپنے ہم وطنوں کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں میں فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ حل کرنے میں تعاون کرنا چاہتے ہیں، پاکستان کی بزنس کمیونٹی خاص طور پر کاٹی ممبران کی امارات کی اعلی قیادت سے ملاقات کروانے کی کوشش کروں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کاٹی کے ممبران بھی اپنی تجاویز پیش کرسکتے ہیں، اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ اس سے قبل کاٹی کے صدر فراز الرحمان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کیلئے دوسرا گھر جیسا ہے، پاکستان سے کام کرنے والے افراد کی بڑی تعداد یو اے ای میں مقیم ہے جبکہ ہر ماہ موصول ہونے والی ترسیلات زر میں متحدہ عرب امارات کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای سمیت مشرق وسطی میں پاکستانی محنت کشوں کی بڑی تعداد کو ملازمت کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ فراز الرحمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت محبت اور طویل برادرانہ تعلقات ہیں۔ یو اے ای کی ترقی میں پاکستانیوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے، یہی وجہ ہے کہ امارات کی ترقی دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم اور بھی بڑھایا جاسکتا ہے۔ یو اے ای پاکستان میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلٹیشن کونسل کے ذریعے مزید سرمایہ کاری کر رہا ہے جو بہت خوش آئند ہے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے کے انڈسٹریلسٹ بھی دبئی سمیت دیگر اہم تجارتی حب میں صنعتیں لگانا چاہتے ہیں، اسی طرح سے یو اے ای کے صنعتکار کورنگی میں سرمایہ کاری کریں۔

تقریب میں ڈپٹی پیٹرن ان چیف زبیر چھایا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات جاکر محسوس نہیں ہوتا کہ ہم پردیس میں ہیں، یو اے ای نے ہر برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ پاکستان بھی دوستی نبھانے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ گزشتہ 25سے 30سال میں امارات کی ترقی پر ہمیں بھی فخر ہے۔ زبیر چھایا نے کہا کہ پاکستان کی 3800کلو میٹر کی کوسٹل بیلٹ ہے جسے کیش نہیں کراسکے۔ دبئی اس وقت مشرق اور مغرب کے درمیان ایک حب بن گیا ہے،

متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی توقع ہے، افرادی قوت کے فروغ کیلئے بھی بہت کام کیا جاسکتا ہے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین راشد صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم قرضوں اور امداد پر یقین نہیں رکھتے، ہم متحدہ عرب امارات کے ساتھ شراکت میں ساحلی پٹی پر جوائنٹ وینچر کر سکتے ہیں، ساحل سمندر کے قریب چھوٹی انڈسٹری لگا سکتے ہیں جبکہ سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ راشد صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہترین وسائل موجود ہیں جس سیکاٹیج انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا کلچر مشترکہ ہے جس سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=415064

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں