اقوام متحدہ ۔14نومبر (اے پی پی):پاکستان کی حمایت سے اقوام متحدہ نے وسطی افریقی جمہوریہ میں امن مشن کی مدت ایک سال کے لیے بڑھا دی گئی ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےوسطی افریقی جمہوریہ میں تعینات اقوام متحدہ کے ملٹی ڈائمنشنل انٹیگریٹڈ اسٹیبلائزیشن مشن (ایم آئی این یو ایس سی اے ) کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ اس مشن میں پاکستان کے ایک …
پاکستان کی حمایت سے اقوام متحدہ نے وسطی افریقی جمہوریہ میں امن مشن کی مدت ایک سال کے لیے بڑھا دی گئی

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔14نومبر (اے پی پی):پاکستان کی حمایت سے اقوام متحدہ نے وسطی افریقی جمہوریہ میں امن مشن کی مدت ایک سال کے لیے بڑھا دی گئی ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےوسطی افریقی جمہوریہ میں تعینات اقوام متحدہ کے ملٹی ڈائمنشنل انٹیگریٹڈ اسٹیبلائزیشن مشن (ایم آئی این یو ایس سی اے ) کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔ اس مشن میں پاکستان کے ایک ہزار سے زائد فوجی اہلکار خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جادون نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے کہا کہ 1,400 پاکستانی اہلکاروں کے ساتھ پاکستان ایم آئی این یو ایس سی اے کے سب سے بڑے دستہ فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اُن کے مطابق یہ مشن اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں کی ایک کامیاب مثال ہے، جس نے اپنے جامع طریقہ کار کے ذریعے امن و استحکام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ وسطی افریقی جمہوریہ میں امن کوششوں کو متاثر کیے بغیر مرحلہ وار اور حالات کے مطابق منتقلی ضروری ہے، تاکہ گزشتہ دس سالوں میں حاصل ہونے والی کامیابیاں برقرار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی امن کارروائیاں امن کے سیاسی حل، شہریوں کے تحفظ اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ مشن اپنے فرائض کو ترجیحات کے مطابق پورا کرے، جن میں سب سے اہم ناغہ گزار شہریوں کا تحفظ، ریاستی اختیار کا فروغ، امن عمل کی معاونت، جنگ بندی کے نفاذ میں مدد، اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی ہیں۔سلامتی کونسل نے سیکریٹری جنرل سے فروری، جون اور اکتوبر 2026 میں پیش رفت رپورٹس جمع کرانے کی بھی درخواست کی ہے۔قرارداد پیش کرتے ہوئے فرانس کے سفیر ژیروم بونا فونٹ نے اسے وسطی افریقی جمہوریہ میں استحکام کے لیے سلامتی کونسل کے نقطۂ نظر میں ایک "اہم موڑ” قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے مشن کو انتخابات کے انعقاد، شہریوں کے تحفظ، ریاستی اختیارات کے پھیلاؤ اور امن عمل میں معاونت جیسے کلیدی شعبوں میں اپنی سرگرمیاں مؤثر انداز میں جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
سلامتی کونسل نے یہ توسیع رائے شماری کے ذریعے 14 ووٹوں کے ساتھ منظور کی، جبکہ صرف امریکا نےرائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد 2800 (2025) کے تحت مشن کی فوجی تعداد 14,046 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ 2025 اور 2026 میں انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد اس تعداد کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔








