پاکستان کی صاف توانائی کی طرف منتقلی کے لئے مربوط منصوبہ بندی، بہتر پیشگوئی، گرڈ کی تیاری میں سرمایہ کاری اور ہدف پر مبنی موسمیاتی مالیات ناگزیر ہیں، ماہرین توانائی

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):توانائی سے متعلق ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی صاف توانائی کی طرف منتقلی کے لئے مربوط منصوبہ بندی، بہتر پیشگوئی، گرڈ کی تیاری میں سرمایہ کاری اور ہدف پر مبنی موسمیاتی مالیات ناگزیر ہیں، ساختی رکاوٹوں جیسے کہ صلاحیت کی ادائیگیاں اور پرانے ٹیرف کے فریم ورک کو حل کئے بغیر ملک کے لئےاپنی قابل تجدید توانائی کی رفتار کو ایک پائیدار اور مضبوط …

اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):توانائی سے متعلق ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی صاف توانائی کی طرف منتقلی کے لئے مربوط منصوبہ بندی، بہتر پیشگوئی، گرڈ کی تیاری میں سرمایہ کاری اور ہدف پر مبنی موسمیاتی مالیات ناگزیر ہیں، ساختی رکاوٹوں جیسے کہ صلاحیت کی ادائیگیاں اور پرانے ٹیرف کے فریم ورک کو حل کئے بغیر ملک کے لئےاپنی قابل تجدید توانائی کی رفتار کو ایک پائیدار اور مضبوط توانائی نظام میں تبدیل کرنا مشکل ہو گا، پائیدار ترقی کا انحصار واضح پالیسی سمت، یوٹیلیٹی سطح پر قابل تجدید توانائی کے انضمام، مضبوط تر تقسیم کے نیٹ ورک اور موسمیاتی مالیاتی طریقہ کار پر ہے جو کمی اور موافقتی ترجیحات کو سپورٹ کریں۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے پیر کو یہاں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس) میں منعقدہ ایک فورم بعنوان ’’پاکستان میں توانائی کی تبدیلی: موجودہ صورتحال، چیلنجز اور آئندہ کا راستہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس سیشن میں حکومت، موسمیاتی مالیات، تعلیمی اداروں، تقسیم  کار کمپنیوں اور قابل تجدید توانائی کے شعبے سے نمائندے شامل تھے۔

اہم مقررین میں سابق منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل انرجی ایفیشینسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا)، ڈاکٹر سردار محزم ، سی ای او کلائمیٹ فنانس پاکستان میکائل ملک، ڈائریکٹر ماحولیات اور پائیداری پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) فیصل شریف اور ہیڈ آف الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ نسٹ ڈاکٹر سید علی عباس قاضی شامل تھے جن کے ساتھ چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن بھی موجود تھے۔

ماہرین کے پینل میں حسنات خان، وائس چیئرمین پاکستان سولر ایسوسی ایشن ، ارقم الیاس، مینیجر پلاننگ و فورکاسٹنگ لیسکو ، تنویر احمد، انرجی آفیسرا ور کنٹری فوکل پرسن یو این ایچ سی آر ، عاصم اعجاز، چیف انجینئر آئیسکو ، ڈاکٹر نادیہ شہزاد، پروفیسر یو ایس پی سی اے ایس۔ای، نسٹ ، محمد یوسف، اسسٹنٹ پروفیسر ، عبداللہ قریشی، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیرف نیپرا ، ڈاکٹر فیصل ندیم، ایسوسی ایٹ پروفیسر یو ای ٹی ٹیکسلا ، اور مصطفیٰ انور، اسسٹنٹ پروفیسر نسٹ شامل تھے۔

ڈاکٹر سردار محزم نے نشاندہی کی کہ قابلِ تجدید توانائی، بشمول ہائیڈرو پاور، اس وقت پاکستان کے توانائی مکس کا بڑا حصہ ہے، مگر طویل المدت پائیداری اب بھی غیر واضح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ہائیڈروجن فیولز، نئی توانائی گاڑیوں اور بالخصوص بڑھتے ہوئے کیپیسٹی پیمنٹس کے بوجھ کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرنا ہوگی، جو قابلِ تجدید مستقبل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

پاکستان میں موسمیاتی مالیات کے منظرنامے پر بات کرتے ہوئے، مکائل ملک نے بتایا کہ مالیات کا 69 فیصد حصہ بین الاقوامی سرکاری ذرائع سے جبکہ 31 فیصد نجی شعبے سے آتا ہے جن میں سے 70 فیصد سے زائد تخفیف، خصوصاً قابلِ تجدید توانائی، پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ موافقت کے لیے وسائل ناکافی ہیں۔ فیصل شریف نے کہا کہ پاکستان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ توانائی کا انتقال کس طرح معاشی طور پر قابلِ عمل، سماجی طور پر منصفانہ، اور ماحول دوست بنایا جائے۔

مصطفیٰ انور نے بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باوجود ہائیڈروجن فیول کی زیادہ لاگت کو بڑے پیمانے پر اپنانے میں رکاوٹ قرار دیا۔ شمسی توانائی کے رجحانات پر بات کرتے ہوئے حسنات خان نے بتایا کہ پاکستان 46 گیگاواٹ کے سولر آلات درآمد کر چکا ہے، جن میں سے 35 گیگاواٹ نصب ہو چکے ہیں، زیادہ تر بِہائنڈ دی میٹر، جبکہ صرف 7تا 9 فیصد نیٹ میٹرنگ کے تحت ہے۔ ڈاکٹر نادیہ شہزاد نے زور دیا کہ ڈسکوز کو بڑھتے ہوئے بیٹری مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی کی کہانی بیک وقت ایک کامیابی اور ایک وارننگ کیس ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے مقامی مصنوعات، خاص طور پر لیمنیشنز، کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ درآمدی انحصار کم ہو۔ ڈسکو کے نقطۂ نظر سے ارقم الیاس نے کہا کہ شمسی انقلاب اور ابھرتے ہوئے ای وی رجحانات پاکستان کے گرڈ پر فوری دباؤ ڈال رہے ہیں، جو روایتی اور یکطرفہ بہاؤ کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا، دوطرفہ کے لئے نہیں۔

محمد یوسف نے زور دیا کہ نیپرا کا فرسودہ ٹیرف ڈھانچہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنا ہے۔ تنویر احمد نے کہا کہ توانائی کے انتقال میں کم آمدنی والے گھرانوں کے مسائل نظر انداز ہو جاتے ہیں، جو بلند ٹیرف، خراب سروس کوالٹی، اور لوڈشیڈنگ کے باعث شمسی توانائی کی طرف مجبوراً جا رہے ہیں، نہ کہ ماحولیاتی شعور کے تحت۔

پلاننگ کے چیلنجز پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل ندیم نے کہا کہ پاکستان کی پیش گوئی میں مسلسل نقائص رہے ہیں، جس کے باعث قابلِ تجدید توانائی کی درست ضرورت یا مناسب جگہوں کا تعین ممکن نہیں ہو سکا۔ اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے گفتگو میں سامنے آنے والے چیلنجز کا اعتراف کیا، تاہم زور دیا کہ مواقع پر توجہ دے کر پاکستان زیادہ پائیدار، منصفانہ اور لچکدار توانائی  کےمستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔