پاکستان 24 ستمبر کو 8ویں پاکستان فارما سمٹ اور چوتھے فارما ایکسپورٹ سمٹ اینڈ ایوارڈز کی میزبانی کرے گا

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پاکستان 24 ستمبر کو اسلام آباد میں 8ویں پاکستان فارما سمٹ اور چوتھے فارما ایکسپورٹ سمٹ اینڈ ایوارڈز (PESA 2025) کی میزبانی کرے گا۔یہ اعلیٰ سطحی تقریب دنیا بھر سے فارماسیوٹیکل ماہرین، ریگولیٹرز اور صنعت کے رہنماؤں کو ایک جگہ اکٹھا کرے گی تاکہ وہ اہم موضوعات پر حکمتِ عملی پر مبنی مکالمہ کریں جن میں ادویات کی برآمدات،فارما انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کا استعمال،بین الاقوامی …

اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):پاکستان 24 ستمبر کو اسلام آباد میں 8ویں پاکستان فارما سمٹ اور چوتھے فارما ایکسپورٹ سمٹ اینڈ ایوارڈز (PESA 2025) کی میزبانی کرے گا۔یہ اعلیٰ سطحی تقریب دنیا بھر سے فارماسیوٹیکل ماہرین، ریگولیٹرز اور صنعت کے رہنماؤں کو ایک جگہ اکٹھا کرے گی تاکہ وہ اہم موضوعات پر حکمتِ عملی پر مبنی مکالمہ کریں جن میں ادویات کی برآمدات،فارما انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت کا استعمال،بین الاقوامی معیار اور ضوابط شامل ہیں۔یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات مالی سال 2024-25 میں 457 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں، جو کہ گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ 34 فیصد اضافہ ہے۔

سیمینار میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ پاکستان کی فارما انڈسٹری کس طرح مزید مضبوط ہو سکتی ہے، ریگولیٹڈ بین الاقوامی مارکیٹس میں اپنا دائرہ بڑھا سکتی ہے ، جدت اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی موجودگی مزید مستحکم کر سکتی ہے۔سیشنز میں عالمی ماہرین شامل ہوں گے، جیسے کہ جم ہیرس (کینیڈا) جو ادویات کی دریافت میں مصنوعی ذہانت پر گفتگو کریں گے۔ڈاکٹر زکیہ الکردی (یو ایس پی، ایمیا) جو ریگولیٹری پالیسی پر روشنی ڈالیں گی،پروفیسر خالد احمد شیخ (یونیورسٹی کالج لندن، برطانیہ) جو کوالٹی کے کلچر کو فروغ دینے کے بارے میں بات کریں گے اورجیوف ٹسن پی ایچ ڈی (یو ایس پی، گریٹر چائنا) جو لچک اور معیارات پر تبصرہ کریں گے۔پروگرام میں لاورا روچے (اسپین/دبئی) بھی شامل ہوں گی، جو ایک بین الاقوامی ایم سی (میزبان) ہیں اور سپین دبئی 2020 جیسے عالمی فورمز کی میزبانی کر چکی ہیں۔

سمٹ میں ان بین الاقوامی معیارات پر توجہ دی جائے گی جن کی تعمیل کو اب پاکستان کی جدید منڈیوں تک رسائی کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور ڈی آر اے پی کے سی ای او سمیت اعلیٰ سرکاری حکام اس فورم سے خطاب کریں گےجبکہ معروف صنعتکار بھی شرکت کریں گے۔دوپہر کے سیشن میں "PESA 2025 ایوارڈز” دیے جائیں گےجو ان کمپنیوں اور افراد کو تسلیم کریں گے جو پاکستان کی فارما برآمدات میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر معیار اور کمپلائنس میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔سمٹ کے چیئرمین ڈاکٹر قیصر وحید نے کہا کہ یہ سمٹ پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے ایک فیصلہ کن وقت پر ہو رہا ہے۔ اگرچہ ہم ملک میں 90 فیصد سے زائد ادویات خود تیار کرتے ہیں مگر اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم عالمی سطح پر جدت، معیار اور اعتماد کے ساتھ مقابلہ کریں۔

 

مزید خبریں