لاہور۔31اگست (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ پاک بنگلہ تجارت کا حجم آئندہ پانچ سال میں 5 سے 7 بلین ڈالر سالانہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
اتوار کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین حالیہ ایم او یو سے امید پیدا ہوئی ہے کہ آنے والے برسوں میں دو طرفہ تجارت میں غیر معمولی اضافہ ہو گا ، ایم او یو بینکنگ چینلز، کسٹمز کی سہولت اور لاجسٹکس جیسی تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ عوامی رابطوں میں اضافہ، تجارتی میلوں میں شرکت اور کاروباری وفود کے تبادلے سے بزنس کمیونٹی کے درمیان اعتماد میں اضافہ اور خصوصی اقتصادی زونز میں مشترکہ منصوبوں وسرمایہ کاری سے صنعتی تعاون کو فروغ ملے گا۔
افتخار علی ملک نے کہا کہ دونوں ممالک جغرافیائی قربت، مشترکہ ثقافتی ورثہ اور صارفین کی مماثلت کی بنا پر ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چمڑے کے سامان، زرعی مصنوعات اور انجینئرنگ کے شعبوں میں تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں۔
پاکستان بنگلہ دیش کو اعلی قسم کی کپاس، دھاگہ، آلات جراحی اور زرعی مشینری برآمد کر سکتا ہے جبکہ بنگلہ دیش ملبوسات، سمندری خوراک، جیوٹ مصنوعات اور گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کی پاکستانی مارکیٹ سے مستفید ہو سکتا ہے۔