پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا نجی ٹی وی چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو

اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہفوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے' فوج نے الیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی، جمہوری مسائل جمہوری طور پر حل ہونے چاہئیں،اس وقت ملک کسی فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا' امید کرتے ہیں معاملات بہتر انداز میں آگے …

اسلام آباد ۔ یکم نومبر (اے پی پی) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہفوج ایک غیر جانبدار ادارہ ہے’ فوج نے الیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی، جمہوری مسائل جمہوری طور پر حل ہونے چاہئیں،اس وقت ملک کسی فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا’ امید کرتے ہیں معاملات بہتر انداز میں آگے چلیں گے ۔ جمعہ کو ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بتائیں وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں’ فضل الرحمان کا مخاطب الیکشن کمیشن ہے’ عدالت یا فوج؟ آج جلسے میں جہاں یہ بات چیت ہوئی وہاں اپوزیشن کی قیادت موجود تھی۔ مولانا فضل الرحمان منجھے ہوئے سیاستدان ہیں وہ جو بات کرتے ہیں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بات تو ان سے یہ پوچھنے کی ہے کہ کیا وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں۔ کیا ان کا حوالہ الیکشن کمیشن کی طرف ہے’ عدالتوں کی طرف’ یا فوج کی طرف ہے؟۔ اپوزیشن کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ فوج ایک غیرجانبدار ادارہ ہے’ ہم آئین اور قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری حمایت ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت کے ساتھ ہے’ کسی ایک جماعت کے لئے نہیں’ لیکن اگر انہیں الیکشن کی شفافیت سے متعلق شکایت ہے اور وہ اس سلسلے میں فوج کو اندر گھسیٹ رہے ہیں تو پہلی بات یہ ہے کہ فوج نے الیکشن میں آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی ہے’ پھر بھی اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو اس سلسلے میں ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہے اس کے باوجود ان کا یہ آئینی حق ہے کہ وہ اپنے تحفظات متعلقہ اداروں کے پاس لے کر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر آکر صرف الزام تراشی سے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ ان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے اس آئینی حق کو استعمال کریں اور جو بھی الزامات ہیں وہاں لے کر جائیں بجائے اس کے کہ وہ فوج پر الزام تراشی کریں۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے پچھلے بیس سال میں بہت مشکل وقت گزارا ہے۔ پاکستانی قوم اور پاکستان کی افواج نے دہشتگردی کے اس عفریت کا مقابلہ کیا ہے جس کا کوئی دوسرا ملک اور کوئی دوسری فوج مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ہم نے جانوں کی اور مال کی قربانی دے کر ملک میں امن و امان قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب27 فروری کو بھارت نے شرانگیزی کی’ قوم کی دعائوں اور اللہ کے کرم سے اس کا منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ہے’ ہمارے جوان اور معصوم’ بے قصور نہتے شہری شہید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی ظلم و ستم جاری ہے۔ اس وقت پاکستان کی تقریباً ایک لاکھ فوج مشرقی سرحد پر فرائض سرانجام دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف مغربی سرحد پر حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں ہم بہت سارا کام سرحد پر کر رہے ہیں۔ تقریباً دو لاکھ فوج وہاں پر مصروف ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمارے قبائل اور خاص طور پر خیبرپختونخوا کے بہادر عوام نے پچھلی دو دہائیاں بہت مصیبت میں گزاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ ان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا جائے اور ان کی کوششوں کو کامیاب کرنے’ ان کی بحالی ‘ تعلیم’ صحت اور باقی سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔ جس کے لئے پاک فوج حکومت کی بھرپور مدد کر رہی ہے تاکہ وہاں پر بہتری آسکے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آپریشن ردالفساد پورے ملک میں جاری ہے۔ اس سلسلے میں فوج پورے ملک میں مصروف عمل ہے اور خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائیاں کی جارہی ہیں تاکہ ملک میں دائمی امن قائم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں اگر ملک کسی قسم کے انتشار کا شکار ہوتا ہے تو یقینا یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے’ ہمیں جمہوری روایات اور ان کے طریقوں کے مطابق چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو کوئی مسئلہ ہو تو اسے آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے اس مسئلے کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر حل کرنا چاہیے’ جو نہ صرف جمہوریت کے لئے بہتر ہوگا بلکہ ملک کے استحکام کو بہتر کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں وہ آپس میں بہتر کوآرڈینیشن کے ساتھ چل رہی ہیں اور توقع ہے کہ یہ بہتر طریقے سے آگے چلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان ایک قومی اور غیر جانبدار ادارہ ہے اور حکومت کے ساتھ آئین اور قانون کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی صورتحال ہوئی اس پر قانون کے مطابق حکومت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر کارروائی ہوگی لیکن ملک کے استحکام کو کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔