پشاور۔ 03 اپریل (اے پی پی):پشتو کے معروف کامیڈین میراوس طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔میراوس کا شمار پشتو شوبز انڈسٹری کے نامور مزاحیہ فنکاروں میں ہوتا ہے،انہوں نے پشتو سٹیج، تھیٹر، ریڈیو، ٹیلی وژن کے علاوہ بے شمار سی ڈی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے،اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو گئے تھے اور کچھ عرصہ سےسرکاری ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ میراوس کے انتقال پر شوبز سے وابستہ شخصیات اور ان کے مداحوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، ان کی وفات کو پشتو فن اور مزاح کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔پشتو کے لیجنڈ مزاحیہ فنکار میرواس 1955 میں خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے تحصیل تنگی گاؤں ملاخیل میں پیدا ہوئے تھے
ان کا اصل نام حیات خان تھا،وہ پندرہ سال کی عمر سے مزاحیہ گفتگو اور چٹکلے سنانے لگے تھے ۔میراوس حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں گزشتہ ایک ماہ سے زیر علاج تھے۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ ذیابیطس (شوگر) کے مرض میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے ان کی دائیں ٹانگ متاثر ہوئی تھی جبکہ بینائی اور سماعت پر بھی اس بیماری نے منفی اثرات ڈالے تھے تاہم ہسپتال کے بستر پر ہونے کے باوجود وہ اپنی مزاحیہ باتوں سے لوگوں کو ہنساتے تھے۔انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان سے ایک مزاحیہ فنکار کے طور پر کیا،جلد ہی وہ پورے پشتون خطے میں مقبول ہو گئے اور دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا جہاں انہوں نے پشتون کمیونٹی کو اپنی مزاحیہ باتوں اور لطیفوں سے محظوظ کیا۔ وہ نہ صرف مزاحیہ شاعری اور پیروڈی میں ماہر تھے بلکہ ان کے تقریبا 766 آڈیو کیسٹ بھی ریکارڈ ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی بے شمار مزاحیہ شوز اور پروگرامز کیے جبکہ سٹیج پر بھی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ان کی مزاحیہ شاعری اور لطیفوں پر مبنی ایک کتاب ’’خندا پہ ٹوقو، ٹوقو کے ‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل کی تصنیف ’’د چارسدے تاریخ‘‘ کے مطابق ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں برونائی دارالسلام کے مادام تساؤ عجائب گھر میں ان کا مجسمہ بھی نصب کیا گیا ہے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=578245