لاہور۔1اکتوبر (اے پی پی):سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا ہے کہ پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122) نے ستمبرکے دوران پنجاب بھر میں 210,317 ایمرجنسیز پر بروقت رسپانس کرتے ہو ئے204,338 ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیوسروسز فراہم کیں۔
انہوں نے گزشتہ ماہ کے دوران41,001 روڈ ٹریفک حادثات،1730 کرنٹ لگنے کی ایمرجنسیز،60 عمارتوں سے گرنے کے واقعات اور110 ڈوبنے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔وہ گزشتہ روز ایمرجنسی سروسز ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ ماہانہ آپریشنل کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے،جس میں ریجنل ایمرجنسی آفیسرز، پنجاب بھر کے ضلعی ایمرجنسی افسران نے وڈیو لنک کے ذریعے جبکہ اس آپریشنل جائزہ اجلاس میں مانیٹرنگ آفیسر اور ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے ونگز کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔پنجاب بھر کے ضلعی ایمرجنسی افسران نے اہم حادثات اور ایمرجنسیز،کیس سٹڈیز،درپیش چیلنجز، قابل ذکر اقدامات سمیت اپنی آپریشنل کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا۔
اس موقع پر سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کو ماہانہ ایمرجنسی اعدادوشمار کے بارے میں بریف کیا گیا جس میں گزشتہ ماہ ریسکیو سروس نے 210,317 ایمرجنسیز پر بروقت رسپانس کیا۔مزید بتایا گیا کہ210,317 ایمرجنسیز میں سے143,509 میڈیکل ایمرجنسیز تھیں جبکہ41,001 روڈ ٹریفک حادثات، 4,068 جرائم کے واقعات،4,412 گرنے اور سلپ ہونے کے واقعات، 1,382آتشزدگی کے واقعات، 5,036 ڈیلیوری کیسز، 2098 پیشہ ورانہ کام کے دوران زخمی ہونے کے واقعات، 1730کرنٹ لگنے کے واقعات،1259 جانوروں کو ریسکیو کرنے کے واقعات، 110 ڈوبنے کے واقعات،60 عمارتوں سے گرنے، 237 برن کیس اور5415 متفرق ریسکیو ایمرجنسیزشامل تھیں۔
ایمرجنسی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں گزشتہ ماہ کے دوران41,001 روڈ ٹریفک حادثات میں 345 افراد جاں بحق ہوئے۔ان ٹریفک حادثات میں سے زیادہ تر8334 ٹریفک حادثات لاہور میں ہوئے جن میں35 افراد جاں بحق ہوئے۔اسی طرح فیصل آباد میں 2975،ملتان میں 2482،گوجرانوالہ میں2184،راولپنڈی میں1542 اور شیخوپورہ میں1487 جبکہ باقی21997 حادثات پنجاب کے باقی30 اضلاع میں رونما ہوئے۔اسی طرح آگ لگنے کے سب سے زیادہ واقعات بڑے اضلاع میں ہوئے جن میں لاہور میں 337 ،فیصل آباد میں 126، راولپنڈی میں111،ملتان میں 80،گوجرانوالہ اور قصور میں 50 آتشزدگی کے واقعات پیش آئے۔سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر نے عوام سے اپیل کی کہ ایمرجنسی ہیلپ لائن 1122 پر غیر ضروری کالز کرنے سے گریز کریں ،کیونکہ اس طرح کی کالز حقیقی ایمرجنسیز پر بر وقت رسپانس کرنے میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہیں۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری سے کام لیں اور ایمرجنسی ریسکیو ہیلپ لائن 1122 کو صرف ضرورت کے وقت ڈائل کریں تاکہ ہنگامی حالات میں متاثرین کو بر وقت ایمرجنسی سروسز کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے، ستمبر میں 1122ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی75 فیصد سے زیادہ کالیں غیر ضروری تھیں۔ڈاکٹر رضوان نصیر نے تمام ڈرائیورز اور موٹر سائیکل سواروں سے اپیل کی کہ وہ احتیاط سے چلائیں کیونکہ77 فیصد سے زائد ٹریفک حادثات میں موٹر سائیکل موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے تمام موٹر سائیکل سواروں سے کہا کہ موٹر سائیکل کی حد رفتار کو 50 کلومیٹرفی گھنٹہ پر چلانے کیساتھ ساتھ سیفٹی ہیلمنٹ،ہمیشہ بائیں لائن میں سفر،سائیڈکے شیشوں اور انڈیکیٹر کا صحیح استعمال اور ٹریفک قوانین پر عمل پیرا ہو کر ٹریفک حادثات میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں،ڈرائیونگ لائسنسنگ سسٹم کو مزید بہتر کیا جائے،ٹریفک انجنئیرنگ،گاڑیوں کی رجسٹریشن،فٹنس اور معاشرے کے ذمہ درانہ رویئے کے ساتھ حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=507310