28.2 C
Islamabad
جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومقومی خبریںپنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2022-23 کے لیے 3ہزار 226ارب روپے...

پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2022-23 کے لیے 3ہزار 226ارب روپے م کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا

- Advertisement -

لاہور۔15جون (اے پی پی): پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال2022-23 کے لیے 3ہزار 226ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا۔بجٹ میں آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 329ارب روپے رکھا گیا ہے۔ بدھ کے روز ایوان اقبال لاہور میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر خزانہ اویس خان لغاری نے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں کل آمدن کا تخمینہ 2521ارب 29کروڑ روپے لگایا گیا ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے پنجاب کو2020 ارب 74کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے ، غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 296ارب روپے جبکہ ترقیاتی اخراجات کے لئے174ارب50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کو 190ارب روپے کے ساتھ پچھلے سال سے 22 فیصد زائد محصولات کا ہدف دیا گیا ہے جبکہ بورڈ آف ریونیو کے لیے 44 فیصد اضافے کے ساتھ 95ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو آئندہ مالی سال کے لئے 2 فیصد زائد کے ساتھ 43ارب 50 کروڑ روپے کے محصولات کا ہدف دیا گیا ہے اور نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 163ارب 53 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے جنوبی پنجاب کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 35 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے جس کا حجم 240ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی محصولات کی مد میں پچھلے سال سے 24 فیصد اضافے کے ساتھ 500 ارب 54 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخرجات کیلئے 1712ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم گزشتہ مالی سال کی نسبت 22فیصد زیادہ ہے۔آئندہ مالی سال کیلئے تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 485 ارب 26 کروڑ روپے رکھے کئے گئے ہیں جبکہ” پڑھو پنجاب بڑھوپنجاب” کے تحت سکول ایجوکیشن کیلئے 382 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میںہائر ایجوکیشن کے لیے مجموعی طور پر 59 ارب 7 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روڈ نیٹ ورک کی توسیع اور تعمیرو مرمت کے لیے 35 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت کیلئے مجموعی طور پر 470 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کی نسبت 27 فیصد زیادہ ہے جبکہ آئندہ ماہ سے سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔ اویس لغاری نے کہا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے 435 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے 312 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ مقامی حکومتوں کیلئے 528ارب روپے اور ترقیاتی پروگراموں کیلئے 685ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ترقیاتی بجٹ کا 40فیصد سوشل سیکٹر،24 فیصد انفراسٹرکچر،6 فیصد پراڈکشن سیکٹر اور2 فیصد سروسز سیکٹر پر مشتمل ہے جبکہ دیگر پروگرامز اور خصوصی اقدامات کے لیے 28 فیصد مختص کئے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت پنجاب نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی مشکلات کے حل کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے علاوہ بجٹ میں مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لیے خصوصی الائونس تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک کے ایسے ملازمین جو اپنے الائونسز کی انتہائی حد سے کم الائونسز وصول کر رہے ہیں انہیں اضافی 15 فیصد اسپیشل الائونس دیا جائے گا۔اس ضمن میں صوبے کے دیہاڑی دار طبقہ اور مزدوروں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا رہا ۔حکومت کی جانب سے دیہاڑی دار طبقہ اور مزدوروں کی کم ازکم اجرت 20000روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25000 روپے ماہانہ مقرر کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں لیپ ٹاپ سکیم کے لیے ایک ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ سردار اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے پنجاب کے ہونہار مگر کم وسیلہ نوجوانوں کے لیے لیپ ٹیپ سکیم کا آغاز کیا تو ہمارے مخالفین کی طرف اس پر تنقید کی گئی ،حالیہ برسوں ورک فرام ہوم اور آن لائن ایجوکیشن کی اہمیت میں اضافے نے اس سکیم کی افادیت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اس مقصد کے لیے آئندہ مالی سال میں سکول سے یونیورسٹیز کے طلبہ کے لیے ایک ارب 50 کروڑ روپے مالیت کے لیپ ٹاپ دینے کی تجویز دی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 142 ارب روپے کے عوامی پیکج کا اعلان کیا گیاہے جس کے تحت عوام کو اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں کمی،رعایتی نرخوں پر سفری سہولیات کی فراہمی ،غریب کاشتکاروں کو کھاد کی رعایتی نرخوں پر دستیابی اور دیگر زرعی ضروریات پر 140 ارب روپے کا ریلیف حاصل ہو گا۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن ) کی حکومت نے وزیر اعلی عوامی پیکج کے تحت 200 ارب کی خطیر رقم سے عام آدمی کے لیے سستے آٹے کی فراہمی کو یقینی بنا چکی ہے،اس تاریخی پیکج کے تحت 10 کلو آٹے کا تھیلہ جو پہلے 650 روپے میں بیچا جا رہا تھا اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے۔

Short Link: https://urdu.app.com.pk/urdu/?p=312630

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں