24.3 C
Islamabad
اتوار, اگست 31, 2025
ہومعلاقائی خبریںپنجاب حکومت نے عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقل کیلئے مقرر کردہ کورٹ...

پنجاب حکومت نے عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقل کیلئے مقرر کردہ کورٹ فیس کو ایک سو روپے تک کم کر دیا

- Advertisement -

لاہور۔5اگست (اے پی پی):وکلا و سائلین کے بہترین مفاد میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی کاوش سے پنجاب حکومت نے فنانس بل2024 میں ترمیم کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقل کیلئے مقرر کردہ 5 سو روپے کورٹ فیس کو ایک سو روپے تک کم کر دیا۔بار ایسوسی ایشنز کے وفدکی جانب سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی کاوش کو انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔وکلا وفد نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے وکلا و سائلین کی ویلفیئر اور سہولیات کے لئے اٹھائے جانے والے انقلابی اقدامات کو بھی سراہا اور انہیں صوبائی عدلیہ کا حقیقی لیڈر بھی قرار دے دیا۔صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملک آصف نسوانہ نے کہا کہ صوبہ بھر میں بننے والے لیڈیز بار رومز اور ڈے کیئر سنٹرز لاہور میں بننے جا رہے ہیں،جوڈیشل کمپلیکس اور سپریم کورٹ انرولمنٹ کیلئے زیر التوا فٹنس سرٹیفیکیٹس کا اجرا ءچیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کے تاریخی اقدامات ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کے ساتھ وکلا وفد نے ملاقات کی۔وکلا وفد میں لاہورہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ملک آصف نسوانہ، ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن ملتان کے صدر اظہر خان مغل، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر احسن حمید للہ، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے نائب صدر سہیل خان اورلاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر مبشر رحمان سمیت دیگر وکلا رہنما موجود تھے۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز اور رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ امجد اقبال رانجھا بھی موجود تھے۔وکلا وفد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے فنانس بل کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ لاہور پرنسپل سیٹ اور علاقائی بنچز ملتان،بہاولپور اور راولپنڈ ی کیلئے نقل فارم کے ساتھ جمع کروانے کی فیس5 سو روپے مقررکی گئی تھی۔تاہم لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی اور لاہور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے متذکرہ فنانس بل کے نفاذ کیلئے وقت مانگا گیا تھا

- Advertisement -

تاکہ وہ وزارتِ قانون کے ساتھ 5 سو روپے فیس سے متعلق معاملات طے کر سکیں۔تاہم بارایسوسی ایشنز کو دی گئی مہلت ختم ہوگئی،مگر وزارتِ قانون کے ساتھ بار ایسوسی ایشنز کے معاملات طے نہ ہوسکے۔فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب قانون بن جاتے ہیں تو انکا واپس ہونا یا ترامیم ہونا آسان مرحلہ نہیں ہوتا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بتایا کہ عدالتی فیس و نقل فارم فیس میں تبدیل یا نفاذ پنجاب حکومت کی جانب سے کیا گیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نہ تو کسی فیس کا نفاذ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی فیس کو اکٹھا کرکے استعمال کی جاتی ہے۔چونکہ کورٹ فیس اور نقل فارم فیس میں تبدیلی کا نفاذ باقاعدہ فنانس بل کے ذریعے کیا گیا تھا تو اس میں ترمیم آسان نہیں تھی۔تاہم ہمیں وکلا کمیونٹی خصوصا ًنوجوان وکلا کی مشکلات کا ادراک تھا اور اسی کے پیشِ نظر بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ انہوں نے ذاتی طور پر یہ معاملہ پنجاب حکومت کے ساتھ اٹھایا اور آج ہمارے لئے باعث مسرت ہے کہ ہم اپنی کوششوں میں کامیاب ہو گئے اور نقل فارم فیس کو 5 سو سے کم کرکے1 سو سے لیکر 1سو پچاس روپے تک کردیا گیا ہے

۔فاضل چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ ہم اپنی بساط سے بڑھ کر بارز و وکلا کے لئے کام کر رہے ہیں اور وکلا کی فلاح و بہبود اور ویلفیئر پراجیکٹس کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے بتایا کہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے فنانس بل میں ترمیم کے تمام مرحلے میں ذاتی دلچسپی دکھائی جس کی بدولت وکلا و سائلین مستفید ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صوبہ بھر میں چلنے والے تمام پراجیکٹس کی نگرانی فاضل چیف جسٹس بذاتِ خود کرتی ہیں۔لیڈیز بار رومز سے لیکر ڈے کیئر سنٹرز لاہور کے لئے بننے جا رہے،جوڈیشل کمپلیکس تک ہر چیز کو خود مانیٹر کررہی ہیں۔

 

- Advertisement -
متعلقہ خبریں
- Advertisment -

مقبول خبریں